نئی دہلی:بھارت میں تعلیمی بحران اور سیاسی نظام کی بے حسی کے خلاف نئی نسل کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ ملک بھر میں ’جین زی‘ (Gen Z) سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بینر تلے ایک غیر معمولی احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا ہے، جس نے دلی کی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لاکھوں طلبہ فرسودہ تعلیمی پالیسیوں، امتحانی بے ضابطگیوں اور روزگار کے مواقع ختم ہونے کے خلاف سڑکوں پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی نشریاتی ادارے ’’الجزیرہ‘‘ نے بھارت میں ابھرنے والے اس نئے غصے کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ احتجاج بھارتی نوجوانوں کی موجودہ نظام سے شدید مایوسی کا عکاس ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، احتجاج کے دوران سڑکیں مودی حکومت کے ناقص تعلیمی نظام کے خلاف نعروں سے گونجتی رہیں۔ اس موقع پر طلبہ کا سب سے بڑا غصہ بھارتی یکطرفہ میڈیا پر نکلا۔ مظاہرین نے ’گودی میڈیا‘ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور الزام لگایا کہ یہ میڈیا کارپوریٹ اور حکومتی مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے طلبہ کی آواز کو دبا رہا ہے۔
مظاہرین نے تعلیمی نظام کی اس ابتری کا براہِ راست ذمہ دار مرکزی حکومت کو ٹھہراتے ہوئے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ امتحانی بورڈز کی نااہلی اور پیپر لیکس نے لاکھوں ہونہار نوجوانوں کا مستقبل اندھیرے میں دھکیل دیا ہے، اس لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
طبیعی اور سیاسی ماہرین کے مطابق، اس تحریک کو ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا نام دینا موجودہ سیاسی اشرافیہ پر ایک گہرا طنز ہے۔ نوجوانوں کا مؤقف ہے کہ جس طرح کاکروچ ہر آفت میں بچ جاتا ہے، اسی طرح موجودہ حکمران بھی ہر اسکینڈل کے بعد اپنی کرسیاں بچا لیتے ہیں۔ یہ منفرد تحریک اب سوشل میڈیا سے نکل کر سڑکوں پر ایک بڑا سیاسی طوفان بن چکی ہے۔
نظام کی ناکامی پر نوجوان آپے سے باہر؛ بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ
الجزیرہ نے مودی سرکار کے تعلیمی دعووں کا پول کھول دیا؛ گودی میڈیا کے بائیکاٹ کے نعرے، وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کی برطرفی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
12:15 PM, 7 Jun, 2026