اسلام آباد :آزاد جموں و کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے زیر اثر جاری تحریک کے حوالے سے ایک انتہائی اہم دستاویزی تجزیہ سامنے آیا ہے، جس کے مطابق بجلی کے نرخوں اور گندم کی قیمتوں کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج اب ریاست کی عملداری اور آئینی انتظامات کو چیلنج کرنے والی مہم میں تبدیل ہو چکا ہے۔
موصول ہونے والی دستاویز میں سال 2023 سے لے کر 2026 تک جے اے اے سی کے عروج کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔ اس تجزیے میں تحریک کی قیادت، سیاسی ایجنڈے کے پھیلاؤ، بدامنی کے واقعات، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ محاذ آرائی اور اس مہم کے پیچھے مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی گئی ہے۔ دستاویز کا استدلال ہے کہ جو تحریک شروع میں معاشی شکایات پر مبنی تھی، وہ اب سیاسی اختیار اور آئینی سوالات کے مقابلے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
اس تمام صورتحال میں اب یہ گہرا سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کیا جے اے اے سی اب بھی محض عوامی فلاح و بہبود کا ایک پلیٹ فارم ہے، یا یہ پاکستان کے قومی مفادات اور ریاستی رٹ کے لیے ایک ایسا بڑا چیلنج بن چکا ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔