گلگت بلتستان انتخابات: پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری، ’شیر‘ اور ’تیر‘ میں کانٹے کا مقابلہ

05:35 PM, 7 Jun, 2026

گلگت : گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے 24 حلقوں میں عام انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل بلا تعطل جاری ہے۔ صوبے بھر میں صبح 8 بجے شروع ہونے والی پولنگ شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہی، جس میں شہریوں نے بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔
انتخابات میں 10 اضلاع کے 24 حلقوں میں ساڑھے 9 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز کے لیے پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے تھے۔ شدید سردی اور موسم کی سختی کے باوجود خواتین، نوجوانوں اور بزرگ شہریوں کی ایک بڑی تعداد اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے گھروں سے نکلی اور پولنگ سٹیشنز پر لمبی لائنیں دیکھی گئیں۔
اس بار انتخابی دنگل میں 8 خواتین سمیت ریکارڈ 403 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔ سیاسی میدان میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) 23 امیدواروں کے ساتھ سب سے آگے ہے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے 22 امیدوار میدان میں ہیں۔ اس کے علاوہ استحکامِ پاکستان پارٹی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 9، مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے 7، جبکہ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6، 6 امیدوار انتخابی دوڑ میں شامل ہیں۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق اصل سرپرائز 266 آزاد امیدواروں کی طرف سے متوقع ہے جو مختلف حلقوں میں بڑی جماعتوں کا کھیل تبدیل کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔

انتخابی عمل کو پرامن اور شفاف بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے سکیورٹی کے انتہائی سخت اور فول پروف انتظامات کیے گئے تھے۔ صوبے بھر میں 15 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات رہے، جن میں گلگت بلتستان پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز، جی بی سکاؤٹس، سندھ پولیس اور پنجاب پولیس کے دستے بھی شامل تھے۔ چیف الیکشن کمشنر کے دفتر میں قائم خصوصی کنٹرول روم سے تمام انتخابی عمل کی براہِ راست نگرانی کی گئی۔

مزیدخبریں