تہران/ واشنگٹن : مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو براہِ راست چیلنج دے دیا۔ ایرانی حکام نے امریکی صدر کے اس بیان پر سخت ردِعمل دیا ہے جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "اگر ہمت ہے تو امریکی جنگی جہازوں کے ذریعے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کو سکیورٹی دے کر دکھائیں۔ایرانی فوج کے ترجمان نے واضح کیا کہ ہم نے آبنائے ہرمز کو مکمل بند نہیں کیا، تاہم اسرائیل اور امریکہ کے بحری جہازوں کو یہاں سے گزرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بحال رکھنے میں ناکامی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 9 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے.برینٹ خام تیل: 92 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ڈبلیو ٹی آئی (WTI): 88 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔
قطری وزیرِ توانائی نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ عالمی معیشت کو تباہ کر سکتی ہے۔خلیجی ممالک چند ہفتوں یا دنوں میں تیل کی پیداوار مکمل طور پر روک سکتے ہیں۔ اگر کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز میں تناؤ: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا صدر ٹرمپ کو چیلنج، عالمی منڈی میں خام تیل 9 فیصد مہنگا
09:15 AM, 7 Mar, 2026