ٹرمپ کا بڑا فیصلہ: کانگریس کو نظر انداز کرتے ہوئے اسرائیل کو 151 ملین ڈالر کے ہنگامی اسلحے کی منظوری

07:44 PM, 7 Mar, 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی کے پیشِ نظر اسرائیل کو 151.8 ملین ڈالر مالیت کے ہنگامی اسلحے کی فروخت کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اس ڈیل کے لیے اپنے خصوصی ایمرجنسی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے امریکی کانگریس کو بائی پاس کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، اس دفاعی معاہدے میں 12 ہزار انتہائی طاقتور بم شامل ہیں۔ ان میں ایک، ایک ہزار پونڈ وزنی بم بھی شامل ہیں جو کسی بھی بڑے ہدف کو تباہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان بموں کی فوری فراہمی کا مقصد اسرائیلی فضائیہ کی جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ اسلحہ کسی طویل انتظار کے بغیر براہ راست امریکی فوجی ذخائر اور ٹیکساس میں واقع اسلحہ ساز فیکٹری سے اسرائیل روانہ کیا جائے گا۔ امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں اسرائیل کو اس اسلحے کی فراہمی "انتہائی ناگزیر" قرار دی گئی تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، صدر ٹرمپ کا کانگریس کی منظوری کے بغیر ایمرجنسی اختیارات کا استعمال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی عسکری برتری برقرار رکھنے کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہے۔ اس فیصلے پر امریکی سیاست میں بحث چھڑنے کا امکان ہے، تاہم وائٹ ہاؤس نے اسے قومی سلامتی اور اتحادی ملک کے دفاع کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔

مزیدخبریں