مصنوعی ذہانت کا استعمال انسانی ذہنی صلاحیت متاثر کر سکتا ہے: تحقیق

07:54 PM, 7 May, 2026

کیلیفورنیا: ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مصنوعی ذہانت کا مختصر وقت کے لیے استعمال بھی انسان کی سوچنے اور مسئلے حل کرنے کی صلاحیت پر اثر ڈال سکتا ہے، تاہم ماہرین نے اس کے فائدے بھی تسلیم کیے ہیں۔

یہ تحقیق ذہانت کے شعبے کے ماہرین کی مشترکہ کوشش ہے، جس میں کارنیگی میلن یونیورسٹی، میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، آکسفورڈ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے محققین شامل تھے۔

تحقیق کے مطابق اگر کوئی شخص دن میں صرف 10 منٹ کے لیے چیٹ بوٹ یا اس نوعیت کے نظام استعمال کرے تو اس کی تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ تجربے کے دوران شرکاء کو مختلف کام دیے گئے، جن میں کچھ کو مصنوعی ذہانت کی مدد بھی حاصل تھی۔

نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ جب بعد میں ان سے یہ مدد واپس لی گئی تو کئی افراد نے غلط جواب دیے یا کام مکمل کرنے میں ناکامی ظاہر کی، جس سے یہ واضح ہوا کہ زیادہ انحصار ذہنی کارکردگی کو کمزور کر سکتا ہے۔

محققین نے وضاحت کی کہ اس کا مقصد یہ نہیں کہ تعلیمی اداروں یا دفاتر میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر پابندی لگائی جائے، کیونکہ یہ ٹیکنالوجی کام کو آسان اور بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ تاہم اس کے استعمال میں توازن ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق ان نظاموں کو اس طرح بہتر بنانے کی ضرورت ہے کہ یہ صرف فوری جواب دینے کے بجائے رہنمائی فراہم کریں، تاکہ استعمال کرنے والا خود بھی سوچنے اور سیکھنے کی صلاحیت برقرار رکھ سکے۔
 
 
 

مزیدخبریں