27 ویں ترمیم سے متعلق کوئی مسودہ سامنے نہیں آیا،جے یو آئی صوبوں کو مزید بااختیار بنانے کی بات کرتی ہے: مولانا فضل الرحمان

06:42 PM, 7 Nov, 2025

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم کا کوئی مسودہ ابھی تک منظر عام پر نہیں آیا، اور اگر ترمیم میں صوبوں کے اختیارات میں کمی کی بات کی گئی تو ان کی جماعت اس کی سخت مخالفت کرے گی۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان نے شرکت کی، لیکن ترمیم کا کوئی مسودہ ابھی تک سامنے نہیں آیا، اور اس لیے 27 ویں ترمیم پر فی الحال کوئی بات نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم میں حکومت نے 35 شقوں سے دستبرداری اختیار کی تھی، اور اگر ان میں سے کوئی شق 27 ویں ترمیم میں دوبارہ شامل کی گئی تو یہ آئین کی توہین سمجھی جائے گی۔

مولانا فضل الرحمان نے واضح طور پر کہا کہ 26 ویں ترمیم میں دستبردار ہونے والے نکات 27 ویں ترمیم میں شامل نہیں کیے جا سکتے، خاص طور پر صوبوں کے اختیارات میں کمی کرنے کی کوئی بھی کوشش قابل قبول نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ہمیشہ صوبوں کو مزید با اختیار بنانے کی بات کرتی ہے، اور اس میں کمی کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے رد کیا جائے گا۔

انہوں نے آرٹیکل 243 کے حوالے سے بھی کہا کہ اگر اس میں تبدیلی سے جمہوریت پر منفی اثرات پڑے تو وہ قابل قبول نہیں ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ 26 ویں ترمیم کے دوران تمام پارلیمانی جماعتوں کے درمیان مشاورت ہوئی تھی، اور کئی نکات اپنی مرضی سے اس میں شامل کیے گئے تھے۔

مزید برآں، مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سود (قرض) کے حوالے سے کوئی پیشرفت نظر نہیں آ رہی، اور دینی مدارس کی رجسٹریشن بھی نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کے حوالے سے وزارتِ تعلیم کے تحت رجسٹریشن کے لیے زور دیا جا رہا ہے، جو کہ غیر ضروری مداخلت ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ملک کے بچوں کو اپنی اولاد کی طرح سمجھتے ہیں اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ ملک میں کچھ بھی درست نہیں ہو رہا۔ ملک کو بہتر بنانے کے لیے اجتماعی سوچ اور مشترکہ کوشش کی ضرورت ہے۔

مزیدخبریں