واشنگٹن : امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے معاملے پر غیر معمولی پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایران پر حملے روک دیے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وائٹ ہاؤس اب تصادم کے بجائے بامقصد سفارت کاری کے ذریعے مسائل کا حل چاہتا ہے۔
نائب صدر کے مطابق صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ ایران میں مطلوبہ مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں، جس کے بعد اب مزید فوجی کارروائیوں کی ضرورت نہیں رہی۔جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ محض رسمی گفتگو نہیں بلکہ ایسے "بامقصد مذاکرات" چاہتے ہیں جن کے نتائج سے خطے میں مستقل امن قائم ہو سکے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکہ ایک پائیدار جنگ بندی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھے گا۔امریکی انتظامیہ کے اس بیان کو عالمی سطح پر پاکستان کی حالیہ ثالثی کوششوں کی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرینِ خارجہ امور کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے حملے روکنے کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پسِ پردہ ہونے والی سفارت کاری رنگ لے آئی ہے اور اب دنیا ایک بڑی جنگ کے خطرے سے باہر نکل آئی ہے۔
"ایران پر حملے روک دیے، اب بامقصد مذاکرات ہوں گے": امریکی نائب صدر جے ڈی وینس
03:26 PM, 8 Apr, 2026