واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک انقلابی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں حالیہ رجیم چینج (تبدیلیِ حکومت) کے بعد امریکہ اب نئی ایرانی حکومت کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق اس تعاون کا بنیادی مقصد ایران کے جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ اور خطے میں معاشی استحکام لانا ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ نئے معاہدے کے تحت ایران میں اب کسی قسم کی یورینیم افزودگی نہیں ہوگی۔ امریکہ اور ایران مل کر ایک مشترکہ مشن پر کام کریں گے جس کے تحت گہرائی میں دفن کیے گئے تمام جوہری مواد کو نکال کر محفوظ طریقے سے ضائع کیا جائے گا۔ صدر نے تصدیق کی کہ فریقین کے درمیان 15 نکاتی ایجنڈے پر بات چیت جاری ہے، جن میں سے بیشتر نکات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے، جس میں پابندیوں میں نرمی اور ٹیرف میں چھوٹ بھی شامل ہے۔
صدر ٹرمپ نے دنیا بھر کے ممالک کو سخت وارننگ دیتے ہوئے ایک نیا معاشی قانون فوری طور پر نافذ کر دیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جو بھی ملک ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھے گا یا اسے اسلحہ فراہم کرے گا، اس ملک کی امریکہ کے ساتھ ہونے والی تمام تجارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔
صدر کے مطابق یہ اقدام ایران پر انتہائی اقتصادی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ تہران کے ساتھ مالی یا عسکری کاروبار کرنے والے ممالک کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ اس فیصلے سے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچنے کا امکان ہے، کیونکہ ایران سے تیل یا دیگر اشیاء خریدنے والے بڑے تجارتی شراکت داروں کو اب امریکی مارکیٹ میں بھاری محصولات کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے عالمی سپلائی چین اور قیمتوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
امریکہ نئی ایرانی حکومت کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، دونوں مشترکہ مشن پر کام کریں گے :ٹرمپ
04:52 PM, 8 Apr, 2026