آپریشن ایپک فیوری کے دوران تاریخی کامیابیاں ملیں: امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ، جنرل ڈین کین کی میڈیا بریفنگ

05:37 PM, 8 Apr, 2026

آپریشن ایپک فیوری کے دوران تاریخی کامیابیاں ملیں: امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ، جنرل ڈین کین کی میڈیا بریفنگ
آپریشن ایپک فیوری کے دوران تاریخی کامیابیاں ملیں: امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ، جنرل ڈین کین کی میڈیا بریفنگ

واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف ایک فیصلہ کن فوجی کارروائی انجام دی، جس کے بعد ایران کو جنگ بندی کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ انہوں نے اس آپریشن “ایپک فیوری” کو تاریخی اور کامیاب قرار دیا اور کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایسے نتائج حاصل کیے جو کسی بھی امریکی صدر کے لیے منفرد ہیں۔

میڈیا بریفنگ کے دوران ہیگسیتھ نے بتایا کہ اس کارروائی میں ایران کے دفاعی نظام کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا، ایرانی نیوی اور فضائیہ شدید نقصان اٹھانے پر مجبور ہوئی، اور ایران کے سیکڑوں میزائل نشانے تک پہنچنے سے پہلے ناکارہ کر دیے گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر زخمی ہوئے، اور ایرانی سپریم کونسل، دفاعی، عسکری اور انٹیلی جنس قیادت کو بھی مؤثر انداز میں ختم کر دیا گیا۔

ہیگسیتھ نے مزید کہا کہ اس آپریشن میں امریکہ نے زمین پر کارروائی کی، لیکن کسی بھی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دیگر امریکی صدور ایران کے معاملے میں صرف بات کرتے رہے، لیکن صدر ٹرمپ نے عملی اقدامات کے ذریعے نتائج دکھائے۔ ان کے مطابق، ایران نے مشکل سبق سیکھا کہ امریکہ کے مقابلے میں لڑنا کس انجام تک پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران کی ہتھیار سازی کی اہم فیکٹریاں ملبے میں تبدیل کر دی گئی ہیں، جس سے خطے میں امن کے حقیقی مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ ہیگسیتھ نے کہا: "صدر ٹرمپ کے سوا کوئی اور ایسا معاہدہ نہیں کر سکتا جو امریکہ اور خطے کے لیے اتنا مؤثر ہو، اور ہمیں اپنی فوج پر فخر ہے۔"

امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے بھی 38 روزہ اس آپریشن کو شاندار کامیابی قرار دیا اور امریکی قیادت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں جان دینے والے 13 امریکی فوجیوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، اور امریکہ ایران میں موجودہ سیز فائر کا خیرمقدم کرتا ہے۔

یہ آپریشن امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کیے گئے سب سے بڑے اور فیصلہ کن فوجی اقدامات میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں عسکری توازن اور امن کے امکانات پر گہرا اثر پڑنے کا امکان ہے۔

مزیدخبریں