سدرہ کے قتل میں اہم پیشرفت، ملزم کی نشاندہی پر موبائل اور پرس برآمد

06:54 PM, 8 Aug, 2025

راولپنڈی:راولپنڈی میں جرگے کے حکم اور غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی 17 سالہ سدرہ کے قتل کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ پولیس نے مقتولہ کا موبائل فون اور پرس برآمد کرلیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، موبائل فون ملزم ضیاء الرحمن کی نشاندہی پر برآمد کیا گیا، جس کی فرانزک تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پولیس مقتولہ کے موبائل فون کا کال ڈیٹا ریکارڈ بھی حاصل کرے گی۔

مقتولہ کا موبائل فون اور آلہ قتل (تکیہ) ملزم ضیاء الرحمن کے گھر سے برآمد ہو گئے ہیں۔

مظفر آباد جانے والی تین گاڑیوں کے بارے میں بھی تفتیش جاری ہے کہ وہ کس کی تھیں۔ کیس میں پولیس نے مرکزی ملزم جرگے کے سربراہ عصمت اللہ سمیت 6 ملزمان کو جسمانی ریمانڈ پر اپنی تحویل میں لے رکھا ہے۔

یاد رہے کہ سدرہ کا قتل 21 جولائی کو تھانہ پیر ودھائی کے علاقے فوجی کالونی میں ہوا، جس کے بعد ضیاء الرحمن نے اپنی بیوی کو قتل چھپانے کے لیے جھوٹا مقدمہ درج کرایا تھا۔ ایف آئی آر میں ضیاء الرحمن نے اپنی بیوی سدرہ پر الزام عائد کیا کہ وہ طلائی زیورات اور نقدی لے کر فرار ہو گئی تھی۔

پولیس نے تفتیش کے دوران جرگے کے فیصلے پر سدرہ کے قتل کی بات بھی سامنے لائی ہے۔

مزیدخبریں