جرمنی نے اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے پر پابندی عائد کر دی

07:41 PM, 8 Aug, 2025

برلن: جرمن حکام نے کہا ہے کہ وہ ایسے عسکری ساز و سامان کی فراہمی روک دیں گے جو غزہ میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے جمعے کو اعلان کیا کہ حکومت اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی بند کر دے گی کیونکہ غزہ پر اسرائیلی قبضے کے منصوبے کی منظوری کے بعد ان ہتھیاروں کا استعمال ممکن ہے۔

فریڈرک مرز نے کہا کہ فی الحال کوئی بھی فوجی ساز و سامان اسرائیل کو نہیں بھیجا جائے گا جو غزہ میں کام آ سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کا مقصد سمجھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ جرمنی ماضی میں اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والے اہم ملک رہا ہے۔

دوسری جانب، چین کی وزارت خارجہ نے غزہ پر اسرائیلی قبضے کے منصوبے کی منظوری کے بعد فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ غزہ فلسطینی عوام کا علاقہ ہے۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لیئن نے بھی اسرائیل سے درخواست کی ہے کہ وہ غزہ میں عسکری مہم کو وسعت دینے کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔ انہوں نے قیدیوں کی فوری رہائی اور وہاں فوری امدادی سرگرمیاں شروع کرنے پر زور دیا اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
 

مزیدخبریں