واشنگٹن ڈی سی: پاکستان سے تعلق رکھنے والے مسلم و مسیحی مذہبی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر مشتمل وفد نے واشنگٹن کے نیشنل پریس کلب میں منعقدہ نیشنل کولیشن اگینسٹ ہیٹ کی دوسری سالانہ کانفرنس میں شرکت کی۔
کانفرنس میں 70 سے زائد مذہبی، سماجی اور شہری تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی آزادی کے تحفظ، نفرت، تعصب اور عدم برداشت کے خاتمے سمیت پرامن معاشروں کے قیام کے لیے مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔
امریکن مسلم اینڈ ملٹی فیتھ ویمنز ایمپاورمنٹ کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس میں مختلف مذاہب کے رہنماؤں، امریکی قانون سازوں، پالیسی سازوں، ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
مقررین نے بین المذاہب تعاون کے فروغ، مذہبی آزادی کے تحفظ، آن لائن انتہا پسندی اور مذہبی منافرت کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ سوشل میڈیا پر انتہا پسندانہ مواد کے پھیلاؤ اور معاشرے میں عدم برداشت کے رجحانات سے نمٹنے کے امور بھی زیر بحث آئے۔
پاکستانی وفد نے کانفرنس میں مذہبی ہم آہنگی، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور مختلف مذاہب کے درمیان باہمی احترام کے فروغ کے لیے پاکستان میں کی جانے والی کوششوں سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ وفد کے ارکان نے بین المذاہب مکالمے، امن سازی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے جاری اقدامات کا بھی ذکر کیا۔
مقررین نے قائداعظم محمد علی جناح کے اس تصور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے تمام شہری، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا عقیدے سے ہو، مساوی حقوق کے حقدار ہیں۔
کانفرنس سے امریکی کانگریس کے ارکان گریگ سٹینٹن اور بریڈ شنائیڈر سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ انیلا علی، مصنفہ دارا ہورن، اینٹی ڈیفیمیشن لیگ کے نمائندوں اور ڈاکٹر چارلس ایشر نے بھی اظہار خیال کیا۔
شرکاء نے مذہبی نفرت اور تعصب کے خلاف مشترکہ کوششیں جاری رکھنے، مذہبی آزادی کے تحفظ اور انسانی وقار، مساوات اور بنیادی حقوق کے فروغ کے لیے باہمی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔