راولپنڈی : ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اہم بریفنگ دے رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج کے دہشت گرد معصوم عوام اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق زیارت میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے مختلف اطراف سے حملہ کیا، تاہم بہادر پولیس اہلکاروں نے بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے 15 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ اس کارروائی کے دوران 9 پولیس اہلکار بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے، جبکہ دہشت گرد بعض اہلکاروں کو یرغمال بنا کر لے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی پاک فوج اور رینجرز کے دستے فوری طور پر موقع پر پہنچے، جس کے بعد کارروائیوں میں مزید دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا اور دہشت گردوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گرد کارروائیوں کے پیچھے دشمن قوتوں کا ہاتھ ہے، جو صوبے کے امن اور ترقی کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 54 دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا، جبکہ مختلف آپریشنز میں پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے جوانوں نے ملک کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دو مختلف کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز کے 27 جوان شہید ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر ملک کی حفاظت کرتے ہوئے پاک افواج کے 42 اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور ملک کے دفاع کے لیے سیکیورٹی فورسز ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، وہ بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے خوف پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن کوئی طاقت ریاست کو مرعوب نہیں کر سکتی۔ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہر صورت انجام تک پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کی آن اور شان ہے، اسی لیے دشمن قوتیں صوبے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ سکیورٹی فورسز ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاک فوج اور رینجرز نے اطلاع ملتے ہی کارروائی شروع کی، جس کے دوران مزید دہشت گرد مارے گئے۔ دو دیگر کارروائیوں میں بھی سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، جن میں متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ 27 سیکیورٹی اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔
کراچی میں رینجرز چیک پوسٹ حملے سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ چار حملہ آوروں میں سے تین افغان شہری تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا افغانستان کو پاکستان کے استحکام سے مسئلہ ہے؟۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی اور سکیورٹی فورسز ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہیں۔