تحریر: طارق وسیم
تاریخ کا ایک سبق ہے کہ اس سے کوئی سبق نہیں سیکھتا،دنیا بھر میں سوشل میڈیا اظہار رائے کا ذریعہ ہے اور بے شمار اچھے برے کاموں کا پلیٹ فارم بھی ، دنیا کے معروف ترین دست شناس کیرو نے 2 صدی پہلے بتا دیا تھا کہ امریکہ انجینئرز ،برطانیہ سازشی اور برصغیر باتونی لوگوں کی سر زمین ہے۔برصغیر میں کچھ لوگ بدترین احساس کمتری اور کچھ شدید قسم کے احساس تفاخر کا شکار ہیں ۔بھارت میں اکثریت ان لوگوں کی ہے، جو احساس کمتری کا شکار ہیں، پاکستان میں معاملہ کچھ الگ ہے ۔ بھارتی جو کام کر نہیں سکتے اس پر ان کا بیانیہ یہ ہوتا ہے، کہ یہ تو کام ہی غلط ہے، جبکہ پا کستانیوں کی اکثریت اسی کام کے بارے میں کہتی ہے ،کہ اس کے بارے میں ہم سے زیادہ کوئی جانتا ہی نہیں ۔
بات کرتے ہیں فیفا ورلڈ کپ کی، فٹ بال ورلڈ کپ شروع ہوا تو بھارت پر کڑی تنقید ہوئی کہ دنیا کی سب سے بڑی آبادی والا ملک، ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنا تو دور سارک کی سطح پر بھی فٹ بال نہیں کھیل پاتا ،جس کے جواب میں بھارتی سورما شرمندہ بالکل نہیں ہوئے ،بلکہ ایک بیانیہ بنایا کہ ہم کرکٹ میں ورلڈ چیمپئن ہیں، کرکٹ دنیا بھر میں فٹبال سے زیادہ مقبول کھیل ہے،اس لیے ہمیں فٹ بال سے کیا لینا دینا ۔
دوسری جانب جب پاکستانیوں سےپوچھا گیا کہ دنیا بھر میں فٹ بال کھیلنے والے 80 فیصد لوگوں سے زیادہ فٹ اور بہتر ہونے کے باوجود آپ لوگ فٹ بال میں اتنے پیچھے کیوں ہیں ، تو جواب آیا،، پیچھے نہیں ہیں ،ہم سے اچھا تو کوئی فٹ بالر ہے ہی نہیں،ہم سب سے بہتر ہیں بس ہمارے یہاں مواقع کم ہیں ۔کرکٹ کو زیادہ اہمیت ملتی ہے،ورلڈ کپ آگے بڑھا تو بھارت سے اس کے خلاف باقاعدہ ایک مہم شروع کی گئی، جس میں امپائرنگ کے معیار پر تنقید کی جاتی رہی ،کئی میچز کو فکس قرار دیا گیا اور فیفا پر الزام لگائے گئے ،کہ وہ پلیئر پاور کے سامنے بے بس ہے اور اپنے کمرشل مفادات کی وجہ سے ان ٹیموں کو جتوا رہا ہے، جن کے کھلاڑی دنیا بھر میں زیادہ مقبول ہیں ،جیسے ارجنٹائن،پرتگال وغیرہ ،یہاں تک کہا گیا کہ جرمنی میں کیونکہ سٹار کھلاڑی شامل نہیں ہیں، اس لیے اسے آگے نہیں آنے دیا جا رہا ۔یہ بیانیہ بھارتی سوشل میڈیا بناتا اور آگے بڑھاتا رہا ۔
جب برازیل ،میکسیکو ،امریکہ ،کینیڈا اور پرتگال جیسی ٹیمیں ٹورنامنٹ سے باہر ہوئیں، تو بھارتی سوشل میڈیا کو چپ لگ گئی ،انہیں حالات میں مصر کا ارجنٹائن سے میچ ہوا، مصر نے دو گول کی سبقت لی اور میچ 78 ویں منٹ تک چلا گیا ،اگلے 15 منٹ مصری کھلاڑیوں کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوئے اور میسی کی ٹیم نے 3 گول کر کے میچ جیت لیا ،میچ کے دوران مصری کوچ ریفری کے مختلف فیصلوں پر اعتراض کرتا رہا ،اس کی امپائرنگ کو نسل پرستی قرار دیا ۔
میچ کے اختتام پر مصری کھلاڑی زیکو نے کہا کہ ،پورا ورلڈ کپ ہی فکس ہے ،فیفا کمرشل مقاصد کے تحت میسی اور اس کی ٹیم کی پروموشن کر رہا ہے اور انہیں یہ ورلڈ کپ جتوایا جائے گا ،زیکو اور مصری کوچ نے سب کچھ کہا لیکن یہ بتانا بھول گئے کہ میچ کےآخری 25 منٹ میں وہ فٹ بال کھیلنا کیوں بھول گئے تھے ؟۔ان سے بھاگا کیوں نہیں جا رہا تھا ،میسی کے پینلٹی مس کرنے کے باوجود آپ کے خلاف 15 منٹ میں تین گول کیسے ہو گئے ؟ لیکن یہ سوشل میڈیا کی دنیا ہے صاحب ۔مصر 100 سال میں کبھی فٹ بال ورلڈ کپ کا کوارٹر فائنل نہیں کھیلا ،آپ کو موقع ملاآپ نے دو گولز کی لیڈ لی ،پھر اسے گنوا کیسے دیا ؟صرف65 منٹ بعد آپ کے تمام کھلاڑی تھک کیوں گئے ؟جن دو کھلاڑیوں نے آپ کی جانب سے گول کیے تھے کوچ نے انہیں باہر کیوں بلا لیا ،کہیں آپ ہی تو وہ میچ فکسر نہیں جس کا ذکر آپ فیفا سے کر رہے ہیں ؟۔ارجنٹائن انتہائی ہلکی فٹ بال کھیل رہا ہے اس ٹورنامنٹ میں اس نے کیپ ورڈے کے خلاف میچ بھی ہارتے ہارتے جیتا، اور مصر کے خلاف بھی یہی کیا ،کسی تگڑی ٹیم سے سامنا ہواتو وہ با آسانی اسے شکست دے دے گی، اگر قسمت کی دیوی میسی اور اس کے ساتھیوں پر مہربان نہ ہوئی ،لیکن اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ فیفا میچ فکسنگ کر ہا ہے یا کھلاڑیوں کی فیس ویلیو پر میچز کے فیصلے ہو رہے ہیں تو وہ سوشل میڈیا پر موجود احمقوں کی جنت میں رہتا ہے، اور اس نے شاید فٹ بال کو کبھی ایک کک لگا کر بھی نہیں دیکھا ، فٹ بال میں کوئی ہیرا پھیری کی جائے تو شائقین سٹیڈیم کے اندر ہی حساب برابر کر دیتے ہیں ۔ ان گنت میچز میں ہزاروں لوگ لڑائی جھگڑے کے بعد موت کے منہ میں جا چکے ہیں ،فٹ بال عوام کا کھیل ہے ،اس کے ریفری بھی وہی ہیں اور منتظم بھی ، دوسری جانب فرانس ،ارجنٹائن ،بیلجیئم اور سپین وہ ٹیمیں ہیں، جو گزشتہ 15 سال سے دنیا بھر میں سب سے اچھی فٹ بال کھیل رہی ہیں ،ارجنٹائن 2014 ورلڈ کپ کا فائنل کھیلا جرمنی سے ہارا 2018 میں راؤنڈ آف 16 تک پہچا جہاں پینلٹیز پر فرانس سے شکست ہوئی اور 2022 کا ورلڈ کپ جیت گیا ،یہی ارجنٹائن کوپا امریکہ بھی جیتا ،فرانس 2014 میں فیورٹ تھا 2018 کا چیمپیئن تھا 2022 میں بد قسمتی سے ارجنٹائن سے فائنل ہارا، اور اس ورلڈ کپ میں ایک بار پھر فیورٹ ہے ،بیلجیئم گزشتہ 15 برس سے نمبر 1 ٹیم ہے جس کی رینکنگ 2026 میں آ کر ڈاؤن ہوئی ہے ۔
اسی بیلجیئم نے امریکہ کو 4 ایک سے شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کیا ہے ،سینیگال کے خلاف 2 گولز کے خسارے میں جا کر 7 منٹ میں 3 گول کر کے دنیا کو حیران کر کے اپنا میچ جیتا ۔گزشتہ ورلڈ کپ میں یہی سلوک جاپان کے ساتھ کیا ،کئی سیمی فائنلز کھیل چکے ہیں ،،انگلینڈ کی ٹیم گزشتہ 8 سالوں سے ہیری کین کی قیادت میں ایک فورس بن چکی ہے ،اس نے فیورٹ میکسیکو کو اس کے گھر میں ہرا یا ہے یہ وہی میکسیکو ہے جو اپنے ملک میں 78 میں سے صرف 3 میچ ہارا ہے ، سپین یورپین چیمپئن ہے اور فرانس کو حال ہی میں فائنل ہرا کر آیا ہے اور یار لوگ کہتے ہیں فیفا ان ٹیموں کو جتوا رہی ہے ، ان حالات ہمیں صرف اتنا کہنا ہے یار تسی معافی نئیں دے دیندے فٹ بال تے فیفا نوں ؟۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے
طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔