سعودی عرب میں گھریلو ملازمین پر تشددکرنے کی ویڈیو وائرل ہوگئی

04:51 PM, 8 Jun, 2017

نیوویب ڈیسک

ریاض:  پوری دنیا سے بسلسہ روزگار لاکھوں لوگ  سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جاتے ہیں۔سعودی عرب میں سب سے زیادہ گھریلو ملازمین کی ضرورت ہوتی ہے۔ان گھریلو ملازمتوں میں خواتین ملازمین کی نوکریاں سب سے زیادہ ہوتی ہیں۔ فلپائنی،ایتھوپیا، بنگلہ دیش اور بھارت سے خواتین سعودی عرب کے شیخوں کے گھروں میں کام کرتی نظرآتی ہیں۔ایسی ہی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں ایک شیخ فیملی ایتھوپیا کی خاتون ملازم کو بری طرح تشدد کا نشانہ  بنا رہے۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عرب مرد خاتون ملازمہ کو بری طرح پیٹ رہے ہیں۔

اس حوالے سے بہت سے عرب ممالک میں   گھریلو ملازمین کی حفاظت کے لئے قانون سازی ہو چکی ہے لیکن ان قوانین پر عمل درآمد نا ہونے کے برابر ہے۔

ایسا اس لئے بھی  ہے کہ سعودی عرب کے  بہت سے علاقوں میں گھریلو کام کے حوالے سے ملازمین کاغیر تسلی بخش ریگولیٹ ہوناہے اور گھریلو ملازمین غلامی سمیت سنگین خلاف ورزیوں کے تابع ہیں.

مزیدخبریں