عید پر ڈیوٹی، سندھ کے جوانوں کی مراعات کیا ہیں؟ ، پولیس کے خلاف شکایات شہری   کیا کریں؟۔۔۔بیانیہ عید سپیشل میں آئی جی سندھ  غلام نبی میمن  کی گفتگو

11:53 AM, 8 Jun, 2025

 کراچی: آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے نیو نیوز کے پروگرام بیانیہ فواد کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عید کے موقع پر ہر پولیس آفیسرکے ذمے اہم کام ہوتے ہیں۔انہوں نے عید پر جوانوں کی ڈیوٹی کرنے اور جذبات  کے حوالے سے کہاکہ بطور پولیس آفیسر ہماری بنیادی ذمہ داری سکیورٹی فراہم کرنا ، لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنا، جرم کی تفتیش وغیرہ وغیرہ سارا سال چلتی رہتی ہیں اس میں وقفہ نہیں ہوتا ہے۔ ان کاکہنا تھاکہ آئی جی کے ذمے اہم کام رسپانس میکنزم کوبہتر کرنا ہوتا ہے۔ عید کے پروگرام بیانیہ فواد احمد کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ان کاکہنا تھا کہ اگر رسپا نس میکنزم بہتر نہ ہوتو   ہم پر سب سے بڑی تنقید یہ  ہوتی ہے کہ حادثہ کے موقع پر پولیس کدھر تھی۔

انہو ں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ ملیر جیل کا واقعہ نہیں ہونا چاہئے تھا لیکن ہماری پولیس نے فوری رسپانڈ کیا ، ان کاکہنا تھا کہ ایریا ایس ایس پی ملیر جائے وقوعہ پر موجود تھےانہوں نے صورتحال کا جائزہ لیا اورحکمت عملی اپنائی، یہی وجہ تھی کہ زیادہ تر لوگ جلد ہی پکڑے گئے۔انہوں نے ایک سوال کہ کیا آئی جی، ڈی  آئی جیز  اور دیگر  افسران بھی چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں  کیونکہ حالات تو کسی وقت بھی خراب ہوسکتے ہیں  کے جواب میں کہاکہ  میڈیٹ یہ ہے کہ کونسیپٹ کے حوالے سے ہم ہر ٹائم ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں ۔

ان کاکہنا تھا کہ پولیس افسران چوبیس گھنٹوں میں کسی بھی وقت کال پر فوری حاضر ہوتےہیں۔انہوں نے عید پر ڈیوٹی کرنےو الے جوانوں کے الائونس کے سوال کے بارے میں بات کرتےہوئے کہاکہ  سپیشل الائونس کا کنسیپٹ پہلے ہوتا تھا لیکن آہستہ آہستہ حکومت نے اس کو تنخواہ میں بدل دیا۔ مونچھ الائونس اور فٹنس الائونس کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ  مونچھ الائونس نہیں ہے لیکن  فٹنس تو ہر پولیس والے کے لیے لازمی ہے۔ سندھ پولیس  کے خلاف شکایت درج کرانے کاطریقہ کار کیا ہے کے  جواب میں انہوں نے کہاکہ  اس پر ملٹی پل لیئر سسٹم ہے۔میں آئی جی آفس سے شروع کرتا ہوں۔مجھے اس سوال کے پوچھنے کی خوشی ہے کیونکہ اس سے عام لوگوں میں اس حوالے سے آگہی ہوگی۔

ان کاکہنا تھا کہ ہمارا ایک پلیٹ فارم 1715 سے آپریٹ ہوتا ہے۔ یہ نمبر اس وجہ سے ہے کہ جتنی بھی عام لوگوں کی کمپلینٹ جو ایف آئی آر سے لے کر دیگر مسائل تک ہیں اگر حل نہ ہوتو اس نمبر پر کمپلین کی جاسکتی ہے۔اس کے علاوہ اگر کوئی پولیس اہلکار بھی اپنی آواز آئی جی تک پہنچانا چاہتا ہےتو یہ ٹول ہم نے رکھا ہو اہے۔ اس کا میکنزم کیا ہے کے  سوال کے جواب میں آئی جی سندھ نے کہاکہ1715پر کال پر ہم رسپانس کرتے ہیں۔اس کے بعد ہر جمعہ کو ایک سیشن جس کو میں ہیڈ کرتا ہوں میں ان مسائل کاجائزہ لیاجاتااور مسائل کا ہر ممکن حل تلاش کیاجاتا ہے۔ انہوں نے ایف آئی آر کے بارے میں لوگوں  میں موجود رائے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ  یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو پولیس کو انتہائی سنجیدہ لینا چاہئے۔ میں آئی جی کے طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ اگر ہم یہ اینڈ بہتر سے بہتر کرسکیں تو اس سے  یہ ہوتا ہے کہ ایف آئی آر کی وجہ سے مجرموں تک رسائی آسان ہوتی ہے اور اگر ایف آئی آر رجسٹر نہیں ہے تو  پولیس خود پھنس سکتی ہے۔

فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کو فائنل کیوں سمجھا جاتا ہے کہ جواب میں ان کاکہنا تھا کہ  ہم میکنزم کوبہتر کررہے ہیں اور  جو پولیس آفیسر اس میں ناکام ہورہا ہے، تو میں نے بطور آئی جی اس پر سخت ایکشن لینے کا کہا ہے۔ انہوں بجٹ کی قلت کی وجہ سے پولیس کی کارکردگی متاثر ہونے کے جواب میں کہاکہ    سندھ حکومت نے تھانوں کو بجٹ دیا ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ انویسٹی گیشن ایک ایسا ڈیپارٹمنٹ ہے جس سے پولیس کی شناخت ہوتی ہے۔ میں پولیس آفیسر ہوں تومیری شناخت  اس وجہ سے ہے کہ میں ایک تفتیشی آفیسر ہوں۔اگر مجھے  تفتیش نہیں آتی یا میرے پاس تفتیش کے ٹولز نہیں ہیں تو  ظاہر ہے وہ کیس مشکلات کاشکار ہوجاتا ہے۔ ہم نے کوشش کی ہے کہ انویسٹی گیشن برانچ کو جتنا بہتر کرسکیں وہ کریں ۔  

مزیدخبریں