گندم، کپاس اور مکئی کی پیداوار میں نمایاں کمی، زرعی شعبہ بحران کا شکار

07:06 PM, 8 Jun, 2025

اسلام آباد :قومی اقتصادی سروے 2024-25 کے مطابق پاکستان کے زرعی شعبے کو رواں مالی سال کے دوران شدید مشکلات کا سامنا رہا، اور کئی اہم فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گندم کی پیداوار میں 9.8 فیصد کمی ہوئی ہے، جو گزشتہ سال 31.8 ملین ٹن تھی اور اس سال کم ہو کر 28.9 ملین ٹن رہ گئی۔ گندم کی پیداوار میں 2.9 ملین ٹن کی کمی نے ملک کی غذائی سلامتی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

اسی طرح کپاس کی پیداوار میں خطرناک حد تک 30.7 فیصد کمی ہوئی، اور پیداوار 10.2 ملین بیلز سے گھٹ کر 7.0 ملین بیلز رہ گئی۔ کپاس کی پیداوار میں 3.1 ملین بیلز کی کمی نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

مکئی کی پیداوار میں 15.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، اور پیداوار 9.74 ملین ٹن سے کم ہو کر 8.24 ملین ٹن ہو گئی۔ چاول کی پیداوار بھی 1.3 فیصد کمی کے بعد 9.72 ملین ٹن رہی۔

رپورٹ کے مطابق گنے کی پیداوار میں 3.8 فیصد کمی آئی، جو 87.6 ملین ٹن سے کم ہو کر 84.2 ملین ٹن ہو گئی۔ دالوں کی پیداوار میں 14.1 فیصد اور چارہ جات کی پیداوار میں 1.8 فیصد کمی ہوئی۔


زرعی شعبے میں بعض مثبت پہلو بھی دیکھنے میں آئے۔ سبزیوں کی پیداوار میں 7.8 فیصد اضافہ ہوا، جو 295,000 ٹن سے بڑھ کر 318,000 ٹن ہو گئی۔ پھلوں کی پیداوار 375,000 ٹن سے بڑھ کر 390,000 ٹن ہو گئی، جبکہ تیل دار فصلوں کی پیداوار میں 9.6 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 83,000 ٹن سے بڑھ کر 91,000 ٹن تک پہنچ گئی۔


زرعی ماہرین کے مطابق مسلسل موسمیاتی تبدیلیاں، پانی کی کمی، اور زرعی پالیسیوں میں عدم تسلسل پیداوار میں کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔ ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر زرعی اصلاحات متعارف کرائے تاکہ ملکی غذائی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

 
 

مزیدخبریں