بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے، پراپرٹی اور برآمد کنندگان کے لیے ریلیف؛ سولر پینل اور ہائبرڈ گاڑیاں مہنگی ہونے کا امکان

11:05 AM, 8 Jun, 2026

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے 10 جون کو پیش کیے جانے والے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہیں، جس میں متعدد اہم ٹیکسز اور ریلیف اقدامات کی تجاویز زیر غور ہیں۔

ذرائع کے مطابق، وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس سلیب میں کمی کی تجویز دی گئی ہے تاکہ تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی کارپوریٹ سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے سپر ٹیکس میں 2 فیصد کمی اور برآمدات کو بڑھانے کے لیے برآمد کنندگان پر عائد 1 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس ختم کرنے کی سفارش بھی بجٹ کا حصہ ہے۔ معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے ملک کے پراپرٹی سیکٹر کے لیے بھی ایک بڑے ریلیف پیکیج کی تیاری کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب، بجٹ میں ریونیو بڑھانے کے لیے سولر پینلز اور ہائبرڈ گاڑیوں پر جنرل سیلز ٹیکس (GST) بڑھا کر 18 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جس سے ان اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ان تمام ٹیکس اور ریلیف اقدامات کو حتمی شکل دینے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے، جس کے بعد بجٹ کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

مزیدخبریں