تہران میں نئے رہبرِ اعلیٰ کے نام پر اتفاق: مجلسِ خبرگان کا بڑا دعویٰ، اسرائیل کی حملے کی دھمکی

03:55 PM, 8 Mar, 2026

تہران : ایران کی طاقتور مذہبی و آئینی کونسل 'مجلسِ خبرگان' نے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب کے حوالے سے حتمی پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔ کونسل کے اراکین کے مطابق، نئے رہنما کے نام پر اکثریتی اتفاقِ رائے ہو چکا ہے، تاہم موجودہ جنگی حالات کے باعث اعلان میں احتیاط برتی جا رہی ہے۔
مجلسِ خبرگان کے رکن آیت اللہ محمد مہدی میرباقری نے ایرانی خبر رساں ادارے 'مہر' سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل تقریباً مکمل ہے اور درپیش رکاوٹیں دور کی جا رہی ہیں۔دوسری جانب، آیت اللہ محسن حیدری آل کثیر نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہااگرچہ موجودہ صورتحال میں تمام اراکین کا روایتی اجلاس منعقد کرنا ممکن نہیں، لیکن ایک امیدوار کا انتخاب پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔ یہ فیصلہ علی خامنہ ای کی اس وصیت کے مطابق ہے کہ نیا رہبر ایسا ہو جس سے دشمن لرزہ براندام رہے۔
یہ اہم پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر مجلسِ خبرگان کے اراکین نے نئے لیڈر کی نامزدگی کے لیے کوئی باقاعدہ بیٹھک کی، تو اسے براہِ راست نشانہ بنایا جائے گا۔ اس خطرے کے پیشِ نظر ایرانی حکام 'خفیہ اور محفوظ' طریقے سے عمل کو مکمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مغربی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ مجتبیٰ خامنہ ای (علی خامنہ ای کے صاحبزادے) کی بطور سپریم لیڈر نامزدگی کو قبول نہیں کریں گے۔ تاہم، ایرانی کونسل کے رکن حجت الاسلام جعفری کا کہنا ہے کہ انتخاب میں تاخیر صرف سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہے اور ایرانی عوام جلد اس فیصلے سے مطمئن ہوں گے۔
یاد رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، جو 37 برس تک اقتدار میں رہے، رواں سال 28 فروری کو تہران میں امریکہ اور اسرائیل کے ایک مشترکہ حملے میں شہید ہو گئے تھے۔ ایران کے 88 رکنی آئینی ادارے 'مجلسِ خبرگان' پر اب یہ بھاری ذمہ داری عائد ہے کہ وہ ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے نیا چہرہ سامنے لائے۔

مزیدخبریں