ایک سال میں 19 ارب سے زائد پاسورڈز افشا، سائبر ماہرین نے سنگین خطرے کی نشاندہی کر دی

08:31 PM, 8 May, 2025

اسلام آباد: سائبر سیکیورٹی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران دنیا بھر میں 19 ارب سے زائد پاسورڈز انٹرنیٹ پر لیک ہوئے، جسے ماہرین نے سائبر سیکیورٹی کا عالمی بحران قرار دیا ہے۔

معروف ویب سائٹ "سائبر نیوز" میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اپریل 2024 سے اپریل 2025 کے درمیان پیش آنے والی 200 سے زیادہ ڈیٹا خلاف ورزیوں میں مجموعی طور پر 19 ارب 3 کروڑ 3 لاکھ 92 ہزار 929 پاسورڈز منظر عام پر آئے۔

تحقیق کے مطابق ان میں سے 94 فیصد پاسورڈز وہی تھے جو صارفین نے پہلے بھی مختلف جگہوں پر استعمال کیے تھے یا آسانی سے اندازہ لگائے جا سکتے تھے۔ صرف 6 فیصد (تقریباً 1 ارب 14 کروڑ سے زائد) پاسورڈز منفرد تھے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر نیرنگا نے اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ:"ہم کمزور پاسورڈز کو بار بار استعمال کرنے کی عالمی وبا کا سامنا کر رہے ہیں، جو ہیکرز کے لیے دروازہ کھلا چھوڑنے کے مترادف ہے۔"
تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ لاکھوں افراد ایسے پاسورڈز استعمال کر رہے ہیں جن کا اندازہ لگانا نہایت آسان ہے۔

5 کروڑ 60 لاکھ صارفین نے "password"
5 کروڑ 30 لاکھ نے "admin"
جب کہ 4 فیصد پاسورڈز میں "1234" شامل تھا۔مزید یہ کہ 8 فیصد افراد نے اپنے نام کو بطور پاسورڈ استعمال کیا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر صارفین نے پاسورڈز کے استعمال میں احتیاط نہ برتی تو ڈیجیٹل دنیا مزید خطرات کا شکار ہو سکتی ہے۔ ان کا مشورہ ہے کہ صارفین منفرد، پیچیدہ اور محفوظ پاسورڈز استعمال کریں اور انہیں وقتاً فوقتاً تبدیل بھی کریں۔

مزیدخبریں