اسرائیل اور حماس کے مذاکرات کا دوسرا دور مکمل، قیدیوں کی رہائی اور فوجی انخلا پر گفتگو

09:38 AM, 8 Oct, 2025

شرم الشیخ :  اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں مکمل ہوگیا، جس میں قیدیوں کے تبادلے کے شیڈول اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے طریقہ کار پر بات چیت ہوئی۔

ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان بالواسطہ مذاکرات آج بھی جاری رہیں گے، جن میں قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی اور امریکی ثالث بھی شریک ہوں گے۔

امریکی نمائندہ برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر مذاکرات میں شرکت کے لیے شرم الشیخ پہنچ چکے ہیں، جبکہ ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن کی سربراہی میں ترک وفد بھی بات چیت میں شامل ہوگا۔

حماس رہنما خلیل الحیہ نے کہا ہے کہ تنظیم معاہدے پر رضامند ہے، لیکن جنگ کے مکمل خاتمے کی ضمانت ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق "یہ یقینی بنانا ہوگا کہ جنگ دوبارہ شروع نہ ہو، کیونکہ ہم اسرائیل پر کسی صورت بھروسہ نہیں کر سکتے۔"

حماس کے ایک اور سینئر رہنما نے الجزیرہ سے گفتگو میں بتایا کہ مذاکرات میں قیدیوں کی رہائی کو مرحلہ وار اسرائیلی فوجی انخلا سے مشروط کرنے پر بات چیت ہوئی۔

رپورٹس کے مطابق حماس نے اپنے مطالبات میں غزہ میں مستقل جنگ بندی، اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، بے گھر فلسطینیوں کی محفوظ واپسی، غزہ کی تعمیرِ نو، اور قیدیوں کے منصفانہ تبادلے پر زور دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر فریقین بنیادی نکات پر پیش رفت کرنے میں کامیاب ہوئے تو آئندہ چند روز میں ایک فریم ورک معاہدے کا اعلان ممکن ہے، تاہم مذاکراتی عمل اب بھی نازک مرحلے میں داخل ہے۔

مزیدخبریں