حماس نےٹرمپ امن منصوبے پر مصر میں مذاکرات کے دوران 6 اہم مطالبات پیش کر دیے

02:54 PM, 8 Oct, 2025

شرم الشیخ :  فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے پر مصر کے سیاحتی شہر شرم الشیخ میں بالواسطہ مذاکرات کے دوران چھ اہم مطالبات پیش کیے ہیں۔ حماس نے کہا ہے کہ کوئی بھی معاہدہ فلسطینی عوام کی بنیادی خواہشات کی عکاسی کرے اور جنگ کے مکمل خاتمے اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے مکمل انخلا کی ضمانت دے۔

حماس کے سینئر رہنما فوزی برہوم نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ مذاکراتی وفد تمام رکاوٹیں دور کرنے اور ایک ایسا معاہدہ طے کرنے کے لیے کام کر رہا ہے جو فلسطینی عوام کی امنگوں کو پورا کرے۔ انہوں نے اسرائیل کے رویے کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو موجودہ مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

حماس کے مطالبات:
مستقل اور جامع جنگ بندی تاکہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت مکمل طور پر بند ہو جائے۔
اسرائیلی افواج کا غزہ سے مکمل انخلا، بغیر کسی عسکری موجودگی کے۔
انسانی ہمدردی کی امداد کا بلا روک ٹوک داخلہ، جس میں خوراک، پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں۔
بے گھر فلسطینیوں کو اپنے گھروں میں واپسی کا حق دیا جائے۔
فلسطینی قیدیوں کے منصفانہ تبادلے کا معاہدہ۔
غزہ کی فوری تعمیر نو، جسے ایک قومی فلسطینی آزاد ماہرین کی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کی نگرانی میں انجام دیا جائے۔
فوزی برہوم نے کہا کہ اسرائیل پورے فلسطین پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور موجودہ مذاکرات کے مرحلے کو بھی ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیاں اور امریکی مکمل شراکت داری کے باوجود، حماس اسرائیل کو جعلی فتح حاصل کرنے نہیں دے گا۔

مصر میں حماس کا وفد امن مذاکرات میں مصروف ہے اور ٹرمپ امن منصوبے کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مزیدخبریں