پنجاب میں بسنت کے شوقین افراد کے لیے خوشخبری: محفوظ اور کنٹرولڈ بسنت کے انعقاد پر غور

03:05 PM, 8 Oct, 2025

لاہور : پنجاب حکومت نے بسنت کے شوقین افراد کے لیے خوشخبری دیتے ہوئے کہا ہے کہ محفوظ اور کنٹرولڈ بسنت کے انعقاد کے امکانات پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔

محکمہ داخلہ میں حکومتِ پنجاب کی ہدایت پر ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کی۔ اجلاس میں جشنِ بہاراں کے دوران مخصوص دنوں میں بعض علاقوں میں محفوظ بسنت کے انعقاد اور پتنگ بازی پر پابندی کے قوانین میں ممکنہ ترامیم پر تفصیلی غور کیا گیا۔

سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس لیے خطرناک پتنگ بازی کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔

اجلاس میں تجویز دی گئی کہ جشنِ بہاراں کے دوران ثقافتی سرگرمی کے طور پر محفوظ بسنت کی اجازت دی جا سکتی ہے، تاہم اس کے لیے متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر سے این او سی لینا لازمی ہوگا۔ جس چھت یا احاطے کے لیے اجازت دی جائے، اس کے مالک کو حفاظتی اقدامات کے حوالے سے بیانِ حلفی دینا ہوگا۔

مزید یہ کہ دھاتی ڈور، تندی یا مانجھا لگی ڈور کے استعمال پر سخت پابندی ہوگی جبکہ پتنگ سازوں، فروخت کنندگان اور سپلائرز کو ڈپٹی کمشنر سے رجسٹریشن کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ قانون کی خلاف ورزی پر رجسٹریشن منسوخی کے ساتھ قید اور جرمانے کی سزائیں بھی دی جائیں گی۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بغیر اجازت پتنگ بازی اور فروخت پر بھاری جرمانے اور طویل قید کی سزائیں عائد کی جائیں گی۔

سول سوسائٹی کے نمائندے نے کہا کہ محفوظ بسنت فیسٹیول کی بحالی نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کرے گی بلکہ سیاحت کو بھی فروغ دے گی۔

اس کے علاوہ، والڈ سٹی اتھارٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ محفوظ بسنت کے حوالے سے عوامی رائے جاننے کے لیے سروے کرے، جبکہ لیسکو نے ماضی میں خطرناک پتنگ بازی سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات بھی پیش کیں۔

حکومتی ترجمان کے مطابق، بسنت کی کھلے عام اجازت نہیں دی جا سکتی تاہم کنٹرولڈ ماحول میں محفوظ بسنت کے انعقاد پر مشاورت جاری ہے۔

مزیدخبریں