پی ٹی آئی کے دوست آئینی ترمیم سے کیوں پیچھے ہٹ گئے؟:مولانا فضل الرحمان

05:31 PM, 8 Oct, 2025

پشاور :جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی کے اتحادیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی سمجھ سے باہر ہے کہ پی ٹی آئی کے دوست 26ویں آئینی ترمیم سے کیسے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 16 اکتوبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں مفتی محمود کانفرنس منعقد ہوگی، جس میں غزہ میں شہید ہونے والے 70 ہزار بے گناہ افراد کے بارے میں بات کی جائے گی اور امن مارچ کے ساتھ "اسرائیل مردہ باد" کا نعرہ بھی شامل ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمیں حقیقت پسندانہ اور مثبت بات چیت کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف عدالت گیا ہے، وہ اپنا حق استعمال کر رہا ہے، لیکن انہیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ پی ٹی آئی کے دوست ترمیم سے کیوں پیچھے ہٹ گئے۔ ان کے بقول، 27 صفحات پر مشتمل یہ ترمیم سینٹ، قومی اسمبلی اور حکومت کی طرف سے سراہا گیا تھا، لیکن اب اسے مشکوک بنایا جا رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی چاہے تو وہ ان کے ساتھ بیٹھ کر معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وفاق میں پی ٹی آئی، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جے یو آئی کے مینڈیٹ چوری ہوئے ہیں، اور ان کے نزدیک پیپلزپارٹی اس حکومت کا حصہ نہیں ہے۔ حکومت اس وقت اقلیت میں ہے، اور مینڈیٹ چوری کرنے والوں کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ افغان مسئلہ پاکستان کی سرزمین کے حوالے سے کسی کے بھی خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے، اور 20 سالہ جنگ میں امریکہ کو اڈے دینے کے باوجود افغان حکومت نے کبھی کوئی شکایت نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر مستحکم افغانستان پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوگا اور اگر حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کوئی غلط فیصلہ کرے تو وہ نشاندہی کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے صوبے میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے حوالے سے کہا کہ صورتحال کو دیکھ کر اسمبلی میں فیصلہ کریں گے اور اگر پی ٹی آئی خود بدامنی کا ادراک کر چکی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔

مزیدخبریں