وزیراعظم شہباز شریف کا پاکستان-سعودی عرب مشترکہ بزنس کونسل سے خطاب، تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا عزم

06:50 PM, 8 Oct, 2025

اسلام آباد : وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان-سعودی عرب مشترکہ بزنس کونسل کے اجلاس میں کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل حالات میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہاں ایک خاندان کی طرح اکٹھے ہوئے ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات انتہائی گہرے اور مضبوط ہیں۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے ساٹھ کی دہائی کے آخر سے سعودی عرب کے کئی دورے کیے ہیں، مگر حالیہ ریاض کا دورہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی بھائیوں اور بہنوں نے پاکستان کے لیے بے مثال محبت کا مظاہرہ کیا ہے اور ہر آزمائش میں ان کا ساتھ دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارا رشتہ استحکام اور پختہ عزم پر مبنی ہے، جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وزیراعظم نے دونوں ممالک کے مابین طے پانے والے دفاعی معاہدے کو بھائی چارے کی مضبوط علامت قرار دیا اور کہا کہ ہر مسلمان مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہم اپنے تعلقات کو کاروبار اور سرمایہ کاری کی بنیاد پر اور بھی مضبوط کریں گے، خاص طور پر تجارت، سرمایہ کاری اور تحقیق و ترقی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے اور اگر ہم مل کر کام کریں تو عالمی سطح پر اپنی جگہ مضبوط بنا سکیں گے۔

وزیراعظم نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی قائدانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی بصیرت نے سعودی معاشرے میں نمایاں تبدیلیاں لائی ہیں۔

اس موقع پر پاکستان-سعودی عرب مشترکہ بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے کہا کہ پاکستان آنے سے قبل انہوں نے سعودی وزرا سے ملاقاتیں کی ہیں اور شہباز شریف کے زیرِ بحث موضوعات پر وہ بھی بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سعودی عرب کے ایک اعلیٰ سطحی کاروباری وفد نے اسلام آباد کا دورہ کیا، جس کی قیادت شہزادہ منصور کر رہے تھے۔ اس وفد نے پاکستانی حکام، چیمبرز آف کامرس اور کاروباری حلقوں سے ملاقاتیں کیں تاکہ دو طرفہ تجارتی اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان اور سعودی عرب نے دوطرفہ معاشی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے 18 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے اور حال ہی میں دونوں ممالک نے ایک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط بھی کیے ہیں، جس کے تحت کسی بھی جارحیت کی صورت میں مشترکہ جواب دینے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

مزیدخبریں