ایران نے جوہری معاہدے کے لیے آمادگی کا عندیہ دے دیا

02:31 PM, 8 Sep, 2025

تہران : ایران نے عالمی برادری کو عندیہ دیا ہے کہ وہ ایک حقیقی اور دیرپا جوہری معاہدے کے لیے تیار ہے، جس کے تحت اپنے یورینیم افزودگی کے پروگرام پر سخت نگرانی اور واضح حدود تسلیم کرے گا، بشرطیکہ اس کے بدلے میں عالمی پابندیاں اٹھا لی جائیں۔

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے برطانوی اخبار گارڈین میں اپنے مضمون میں یورپی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی طرف سے پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کے منصوبے سے باز رہیں، ورنہ اس کے ناگزیر اور تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔ عراقچی نے کہا کہ پابندیوں کے دوبارہ نفاذ سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے اور اس سے صرف امریکہ کو فائدہ ہوگا، جبکہ یورپ تنہا رہ جائے گا۔

عراقچی نے یورپی طاقتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی پالیسیوں کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں اور اگر سخت رویہ اختیار کیا گیا تو یورپ عالمی سطح پر اپنا مرکزی کردار کھو دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پابندیاں بحال ہوئیں تو یورپ کی ساکھ بری طرح متاثر ہوگی اور واشنگٹن کی جانب سے یورپ پر غیر مشروط وفاداری کا دباؤ بڑھ جائے گا۔

اسی دوران ایران کی قدامت پسند پارلیمنٹ ایک ایسے بل پر غور کر رہی ہے جس کے تحت اگر اقوام متحدہ نے پابندیاں بحال کیں تو ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے نکل سکتا ہے۔ عراقچی نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ اگر وہ ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کرے گا تو اسے امریکہ سے مدد لینی پڑے گی کیونکہ ایران کی مسلح افواج اسرائیل کو شکست دینے کے لیے تیار ہیں۔

مزیدخبریں