شام کی سرحد پر حملے میں شیعہ ملیشیا کے 36 جنگجو ہلاک،75زخمی

شام کی سرحد پر حملے میں شیعہ ملیشیا کے 36 جنگجو ہلاک،75زخمی

دمشق /تہران :شام کی سرحد پر حملے میں شیعہ ملیشیا کے 36 جنگجو ہلاک اور 75زخمی ہوگئے ۔امریکی میڈیا کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کتائب سیدالشہدا کے ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ پیر کے روز ہونے والے حملے میں ان کے 36 جنگجو ہلاک اور 75 زخمی ہو گئے تھے جن کا علاج کیا جا رہا ہے۔

عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ داعش نے ملیشیا گروپ کے خلاف حملہ کیا تھا۔عبادی نے بغداد میں ٹیلی وژن پر ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ داعش نے توپ خانے اور کار بموں کے ساتھ یہ حملہ کیا تھا۔امریکی قیادت کے فوجی اتحاد نے، جو وہاں داعش کےخلاف عراق اور شام میں فضائی حملے کر رہا ہے، کہا ہے کہ ان پر لگائے جانے والے الزامات درست نہیں ہیں اور انہوں نے مذکورہ علاقے میں اس وقت کے دوران کوئی فضائی حملہ نہیں کیا۔

داعش کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعوی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے اس حملے میں بڑی تعداد میں گاڑیاں، گولہ بارود اور ہتھیار اپنے قبضے میں لے لیے۔عراق کی وزارت دفاع نے اس دعوے پر اپنا در عمل دینے سے انکار کر دیا۔ایران کی حمایت یافتہ کتائب سید الشہدا عراقی شیعہ ملیشیا کا ایک حصہ ہے جنہیں الحشد الشعبی کہا جاتا ہے۔

یہ فورسز بغداد کو جواب دہ ہیں۔ ان میں ایران کی مذہبی قیادت سے وفاداری رکھنے والے جنگجو بھی شامل ہیں۔ایران کے خبررساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی سے اپنے ایک انٹرویو میں کتائب سید الشہد کے ایک لیڈر بو اعلی نے یہ لزام لگایا کہ داعش اور امریکہ مل کر ان کی فورسز پر حملے کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے جنگجو ہلاک ہوئے ہیں جن میں ان کا ایک کمانڈر بھی شامل تھا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں