اسلام آباد:افغانستان میں مختلف دہشتگرد تنظیموں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ پاکستان متعدد بار عالمی برادری کے سامنے افغان سرزمین پر موجود محفوظ دہشت گرد پناہ گاہوں کے ناقابلِ تردید شواہد پیش کر چکا ہے۔
بین الاقوامی جریدے یوریشیا ریویو کے مطابق روس بھی افغانستان میں سرگرم عسکریت پسند گروہوں سے شدید سیکیورٹی خدشات کا سامنا کر رہا ہے۔ مختلف انتہا پسند تنظیمیں وسطی ایشیائی ریاستوں کی سرحدوں کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہی ہیں، جس سے علاقائی عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب واسیلی نیبینزیا نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں داعش خراسان کی قوت اور سرگرمیوں میں اضافہ ہورہا ہے، جو پورے خطے کے لیے تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق افغان طالبان کی انسدادِ دہشتگردی پالیسی ناکافی ہے اور عسکریت پسند خود کو متبادل طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
روسی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سرگئی شائیگو نے بھی تنبیہ کی کہ افغانستان سے دہشتگرد عناصر کے ہمسایہ ممالک میں داخل ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جبکہ بیرونی مالی معاونت نے ان گروہوں کی سرگرمیوں کو مزید تقویت دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر افغان طالبان پر سفارتی دباؤ، مضبوط انٹیلی جنس تعاون اور سخت بارڈر مینجمنٹ ناگزیر ہو چکی ہے۔ بصورتِ دیگر، واضح اور مؤثر حکمتِ عملی کے بغیر پورا خطہ افغانستان میں پروان چڑھتی خونریز دہشتگردی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔