اسلام آباد/لاہور: ملک بھر میں مون سون بارشوں کا زور برقرار ہے، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی سمیت کئی شہروں میں وقفے وقفے سے موسلادھار بارشوں نے نظامِ زندگی متاثر کر دیا ہے، جبکہ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
لاہور کے مختلف علاقوں جیسے گڑھی شاہو، مال روڈ، چوبرجی، اچھرہ، ماڈل ٹاؤن اور جوہر ٹاؤن میں شدید بارش سے موسم تو خوشگوار ہو گیا، مگر کئی سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں۔ پنجاب کے دیگر شہروں گوجرانوالہ، ملتان اور گوجر خان میں بھی بادل خوب برسے۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔
بارشوں کے باعث پنجاب میں مختلف حادثات میں 7 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہو گئے۔ بلوچستان میں بھی مون سون کے دوران پیش آنے والے واقعات میں 10 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ 7 افراد زخمی ہوئے۔
ادھر دریائے سندھ میں کندیاں کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 3 لاکھ 73 ہزار 800 کیوسک تک پہنچ گئی ہے۔
این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے 10 جولائی تک شدید بارشوں، ممکنہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری کر رکھا ہے۔ الرٹ کے مطابق دریائے سندھ، کابل، چناب، جہلم، سوات اور پنجکوڑہ سمیت کئی دریا اور ندی نالے طغیانی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ڈیرہ غازی خان، راجن پور، جھل مگسی، ژوب، قلعہ سیف اللہ اور دیگر پہاڑی و نشیبی علاقوں میں ندی نالوں کے بہاؤ میں خطرناک حد تک اضافے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات اور این ڈی ایم اے نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔