نیتن یاہو اور ٹرمپ کی دو روز میں دوسری ملاقات، کوئی اعلامیہ جاری نہ ہو سکا

12:52 PM, 9 Jul, 2025

واشنگٹن: اسرائیلی وزیراعظم  نیتن یاہو اور  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں دو روز کے اندر دوسری ملاقات ہوئی، تاہم 90 منٹ طویل اس ملاقات کے بعد کوئی مشترکہ بیان یا اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔

یہ ملاقات ایک نجی عشائیے پر ہوئی جس کے بعد نہ وائٹ ہاؤس اور نہ ہی اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے کوئی وضاحت سامنے آئی۔ ملاقات کے اختتام پر نیتن یاہو میڈیا سے بات کیے بغیر ہی روانہ ہو گئے۔

الجزیرہ کے نمائندے کے مطابق، ملاقات کی تفصیلات کا منظرعام پر نہ آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ممکنہ طور پر دونوں رہنماؤں کے درمیان کسی اختلافی معاملے یا رکاوٹ کا سامنا ہوا ہے۔ اگرچہ گزشتہ دنوں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے حوالے سے مثبت بیانات دیے تھے، لیکن اس ملاقات کا "خفیہ" رہنا حالات کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

ملاقات سے قبل  صدر ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ وہ نیتن یاہو کے ساتھ غزہ کی صورتحال اور اسرائیل-حماس تنازع پر بات کریں گے، اور یہ بھی کہا کہ فریقین چار میں سے تین مسائل پر متفق ہو چکے ہیں۔

تاہم مختلف رپورٹس کے مطابق، جنگ بندی پر کوئی واضح پیشرفت نہیں ہو سکی۔ اسرائیلی حکام اب بھی غزہ سے فوجی انخلا اور دیگر سیکیورٹی معاملات پر بات چیت میں مصروف ہیں۔ البتہ فلسطینی علاقوں میں انسانی امداد کی فراہمی کے لیے ایک طریقہ کار طے پا چکا ہے۔

مزید برآں، ملاقات کے بعد اعلان کیا گیا کہ مشرق وسطیٰ سے متعلق صدر ٹرمپ کے مشیر سٹیو وٹکوف نے اپنا مجوزہ دورہ دوحہ ملتوی کر دیا ہے، جہاں اسرائیل اور حماس کے درمیان بلواسطہ مذاکرات کا نیا دور شروع ہونا تھا۔

وٹکوف نے امید ظاہر کی تھی کہ اسی ہفتے کے آخر تک 60 دن کی جنگ بندی پر اتفاق ہو جائے گا۔ قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ نیتن یاہو کی آمد سے قبل ایک قطری وفد نے بھی وائٹ ہاؤس میں سینئر امریکی حکام سے کئی گھنٹے تک ملاقات کی۔

مزیدخبریں