افغان خواتین پر زمین تنگ، ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی کے الزام میں ہرات اور کابل سے جبری گرفتاریاں، اقوام متحدہ کی سخت مذمت

12:35 PM, 9 Jun, 2026

کابل: افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے خواتین کو سماجی، سیاسی اور عوامی زندگی سے مکمل طور پر بے دخل کرنے کی مہم میں تیزی آ گئی ہے۔ طالبان حکام نے سخت گیر ’ڈریس کوڈ‘ کی آڑ میں دارالحکومت کابل اور ہرات سمیت ملک کے متعدد شہروں میں خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو جبری طور پر گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، طالبان کی مذہبی پولیس نے عوامی مقامات، بازاروں اور تعلیمی مراکز کے باہر ناکے لگا کر ایسی درجنوں خواتین کو حراست میں لیا ہے جن پر طالبان کے وضع کردہ لباس کے قوانین پر پورا نہ اترنے کا الزام ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ڈریس کوڈ محض ایک بہانہ ہے، جبکہ اصل مقصد خواتین کو ڈرا دھمکا کر گھروں میں محصور کرنا اور معاشرے میں ان کے وجود کو ختم کرنا ہے۔

طالبان رجیم کے ان حالیہ جابرانہ اقدامات پر اقوام متحدہ (UN) اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے ایک ہنگامی بیان میں ان گرفتاریوں کو انسانی حقوق کی بدترین پامالی قرار دیتے ہوئے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خواتین کے خلاف اس کریک ڈاؤن کو فوری طور پر روکیں اور زیرِ حراست خواتین کو رہا کریں۔ عالمی برادری کا کہنا ہے کہ خواتین پر ایسی سخت پابندیاں افغانستان کو مزید تنہائی کا شکار کر دیں گی۔

مزیدخبریں