تحریر: وجیہہ تمثیل مرزا
میرا نام ”علا“ ہے میں غزہ کا ایک نڈر اور بہادر رہائشی ہوں۔ آل اظہر یونیورسٹی غزہ میں شعبہ قانون کا طالب علم رہا ہوں۔ وکالت میرا جنون رہی ہے لیکن غزہ میں آغاز جنگ نے میرے اس جنون کو دبا کر رکھ دیا ہے۔ جنگ کے شروع میں اسرائیلیوں نے ہمارا پورا شہر دھواں اور گرد سے بھر دیا تھا اس وقت ہم شہر کے اندر سے بھاگنا چاہتے تھے اور کسی محفوظ مقام پر پناہ لینا چاہتے تھے، لیکن بدقسمتی سے ہم صرف ایک خاص گلی کو ہی عبور کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ شدید دکھ اور درد کے ساتھ یہ کہ ہمارے علاوہ اور کوئی ساتھی اس گلی سے نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ میں اور میرے خاندان والے بمباری اور اس دھواں دار ماحول سے فرار چاہتے تھے اور کچھ افراد میرے ساتھ پیچھے ہی رہ گئے۔ بھاگنے کی اس دوڑ میں اچانک ایک اسرائیلی فوجی کی طرف سے مجھ پر فائرنگ شروع کی جاتی ہے۔ میں بھاگتا ہوں اور گولیاں میرے پیچھے پیچھے ہوتی ہیں۔ اس اسرائیلی درندے کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ مجھے مار دیا جائے۔ وہ مجھ پر مستقل فائرپھنکتا رہا اور میں بھاگتا رہا لیکن مجھے کسی گولی نے نہیں چھوا۔
(ہاہاہا) ” علا “ نے ایک زور دار قہقہے کے ساتھ سانس لی اور کہا۔کہ ”مجھے نئی زندگی ملی ہے “ ۔ لوگ حیران تھے کہ یہ کیسے بچ گیا اور یوں بھی حیران تھے کہ مجھے کچھ نہ ہوا اور کوٸی گولی مجھ تک نہیں پہنچ سکی۔ میں ابھی بھی غزہ میں ہوں۔ میرے خاندان کے کچھ لوگ شہید ہوگئے اور کچھ ابھی زندہ ہیں یا ہوں گے !!! جب اسرائیل نے غزہ پر بمباری کی تب مختلف حملوں میں میری کلاس کے تمام ساتھی شہید ہوگئے اگر کچھ زندہ بھی ہیں تو میرے رابطے میں نہیں ہیں میں نے کوشش کی کے رابطہ بن جائے لیکن کچھ پتا نہ چل سکا۔
" علا "کو اپنے خاندان والوں اور دوست احباب سے بہت محبت ہے جن میں کئی افراد کو وہ کھو چکا ہے۔ سب سے زیادہ محبت اس کو اپنی چھوٹی بہن سے ہے اب وہ مزید اس کے ساتھ ہے یا نہیں اس متعلق " علا" نے کچھ نا کہا سوائے ایک تصویر کے۔ یہ تو ہے " علا " کی آپ بیتی لیکن جہاں جنگ ہو وہاں اس طرح کے کئی "علا " رونما ہوتے رہیں گے۔ اب یہ انکی قسمت ہوتی ہے یا تو وہ بچ جائیں یا پھر جہان فانی سے کوچ کر جائیں۔ غزہ کی موجوہ صورتحال ہم سب کے سامنے ہے۔
غزہ کی پٹی آج ایک المناک بحران کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایک طویل عرصے سے جاری جنگ، ناکافی امداد، اور بنیادی سہولتوں کی کمی نے وہاں رہنے والوں کی حالت زار کو ناقابل برداشت کر دیا ہے۔ کبھی سیز فاٸر کی کوششیں رنگ لے آتی ہے اور کبھی بیٹھ جاتی ہیں۔
اکتوبر ۲۰۲۳ میں حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر عسکری کارروائیاں شروع کیں۔ تب سے، فضائی بمباری، زمینی حملے، اور بمبار ڈھانچے کی تباہی معمول بن چکی ہے۔ آبادیاں متاثر ہوئی ہیں، لوگ گھروں سے بے گھر ہوئے، اور انفراسٹرکچر بری طرح تباہ ہوۓ ہیں۔
غزہ میں بنیادی انسانی ادویات، کھانا، صاف پانی، بجلی، اور طبی سہولتیں شدید کمی کا شکار رہی ہیں۔ بہت سے ہسپتال یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں یا گھریلو عملے اور طبی ساز و سامان کی کمی کی وجہ سے مناسب خدمات فراہم کرنے سے عاجز ہیں۔ بچوں میں غذائی قلت اور قحط کے امکانات سنگین ہیں۔ بہت سے بچے شدید کمغذائی کا شکار ہوۓ ہیں، کچھ علاقوں میں تو پوری آبادی غذائیں پہنچنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ خاص طور پر شمالی غزہ میں قحط کے آثار واضح ہیں۔
ممتاز علاقوں میں جاری بمباری نے لوگوں کو بارہا اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا ہے۔ مقامی لوگ عارضی پناہ گاہوں، خیموں، یا کسی محفوظ سمجھے جانے والے مقام پر پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر ان شہروں اور علاقوں میں بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ " علا " اور اس کے خاندان والوں کو بھی انھی سب تکالیف کا سامنا رہا ہے۔ یہ تو " علا " کی خوش قسمتی تھی کہ وہ اسراٸیلی گولیوں کا نشانہ نہ بن سکا۔ " علا " کو تلاش ہے اپنے بچھڑے پیاروں کی اور امید ہے جنگ بندی کی۔
نوٹ: یہ کالم نگار/بلاگر کی ذاتی رائے ہے ، اس بارے میں ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے
وجیہہ تمثیل مرزا پاکستان میں مقیم ایک ملٹی میڈیا صحافی ہیں جو حقائق پر مبنی خبریں فراہم کرتی ہیں۔ شعبہ صحافت میں گریجویشن کے بعد پاکستان بھر میں اردو اور انگریزی دونوں اخبارات میں بطور خبر نگار، نیوز رپورٹر، کالم نگار کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس کے ساتھ رجسٹرڈ نیشنل/بین الاقوامی صحافتی کونسلز، فورمز، پریس کلب اور ایسوسی ایشنز کے لیے نامزد ہیں ۔ ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا پر اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔ ٹیم سرعام میں بطور صحافی اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں اور الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان میں سماجی کارکن کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔