بھارت کی آبی جارحیت، دریاؤں میں طغیانی: سینکڑوں دیہات زیر آب، ہزاروں افراد متاثر

09:16 AM, 9 Sep, 2025

لاہور/ملتان/عارف والا : بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں بغیر اطلاع پانی چھوڑنے کے باعث پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں دیہات زیر آب آ چکے ہیں اور ہزاروں افراد محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ہیڈ گنڈا سنگھ والا پر پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، جہاں 3 لاکھ 27 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے۔ کئی نشیبی علاقے مکمل طور پر ڈوب چکے ہیں، جبکہ دریا کنارے آباد دیہات خالی کروا لیے گئے ہیں۔

دریائے چناب میں بھی پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ملتان کی تحصیل جلال پور پیر والا میں سیلاب نے تباہی مچادی ہے، جہاں 100 سے زائد بستیاں زیر آب آ چکی ہیں۔ مقامی افراد کو ہیلی کاپٹرز اور کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ شہر کو بچانے کیلئے انتظامیہ نے وہاڑی پل بند کو توڑ دیا ہے، جبکہ آئندہ 12 گھنٹے نہایت اہم قرار دیے گئے ہیں۔

دریائے ستلج میں طغیانی کے باعث عارف والا اور بہاولنگر کے مابین سیلابی ریلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ٹبی لال بیگ کے مقام پر مقامی افراد نے سڑک پر کٹ لگا کر پانی کو موڑنے کی کوشش کی، مگر ریلا بہاولنگر روڈ کی طرف بڑھنے لگا۔ دوسری جانب لیاقت پور میں 35 دیہات ڈوب چکے ہیں، جہاں بارش نے مزید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

جلال پور پیر والا کے قریب سیلابی پانی میں 4 افراد ڈوب گئے جن میں ایک 16 سالہ لڑکے اور 15 سالہ لڑکی کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ دیگر دو افراد کی تلاش جاری ہے۔ ترنڈہ محمد پناہ میں ریسکیو آپریشن کے دوران کشتی الٹنے سے 2 خواتین جاں بحق اور 4 بچے لاپتہ ہو گئے ہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مساجد میں اعلانات کے ذریعے لوگوں کو علاقہ خالی کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔

ریسکیو اور انتظامی ادارے مسلسل امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں، مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں، اور ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر اونچی جگہوں پر منتقل ہو جائیں۔

مزیدخبریں