ملتان : دریائے چناب میں شدید سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر محکمہ انہار نے شیر شاہ بند میں کنٹرولڈ شگاف ڈالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بند کے ساتھ ملحقہ آبادیوں کو پیشگی اطلاع دے دی گئی ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں نکاسی آب، انخلاء اور ریسکیو آپریشن جاری ہیں۔
محکمہ انہار کے ذرائع کے مطابق، دریائے چناب کے بیٹ کے علاقے پہلے ہی مکمل طور پر پانی سے بھر چکے ہیں اور مزید پانی برداشت کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہی، جس کے باعث شیر شاہ بند میں شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ غیر متوقع بند ٹوٹنے کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تریموں ہیڈورکس سے تقریباً 5 لاکھ 40 ہزار کیوسک کا بڑا ریلا آئندہ دو روز میں ملتان کی حدود میں داخل ہوگا، جس کے نتیجے میں خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔ بند کے اطراف کی آبادیوں کو بروقت اطلاع دے کر انخلا کے اعلانات بھی کر دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ ملتان شہر آئندہ 48 گھنٹوں تک "ہائی رسک" زون میں رہے گا۔ اُن کے مطابق، سیلابی ریلے کے باعث متاثرہ اضلاع میں نہ صرف انسانی آبادی، بلکہ کھڑی فصلیں اور مواشی بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کی تازہ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک تقریباً 3.8 ملین افراد متاثر ہو چکے ہیں، جب کہ 300,000 سے زائد افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ ہزاروں جانوروں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور افواجِ پاکستان کے دستے مل کر ریلیف آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں، جب کہ متاثرین کے لیے عارضی کیمپ اور خوراک کی فراہمی کے انتظامات بھی جاری ہیں۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں، ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور بروقت انخلا کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔