کوئی افسر ڈرتا ہے تو اپنا تبادلہ کرا لے، لیکن کام کرتے ہوئے ڈرنا نہیں چاہیے": اسلام آباد ہائی کورٹ

01:08 PM, 9 Sep, 2025

اسلام آباد :  اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے نیب پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "نیب نے پہلے ہی بیڑا غرق کر دیا ہے، اب مزید نقصان نہ کریں۔ اگر کوئی افسر ڈرتا ہے تو اپنا تبادلہ کرا لے، لیکن کام کرتے ہوئے ڈرنا نہیں چاہیے۔"

یہ ریمارکس انہوں نے شاہ اللہ دتہ اور سیکٹر C-13 کے متاثرین کی درخواست پر سماعت کے دوران دیے۔ عدالت نے سی ڈی اے حکام کو متاثرین سے متعلق مکمل تفصیلی رپورٹ ایک ماہ میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

دورانِ سماعت جسٹس کیانی نے نیب پر تنقید کرتے ہوئے کہا، "سیاسی انتقام اپنی جگہ، لیکن نیب کا کوئی پرسان حال ہی نہیں رہا۔ نیب کے کہنے پر نہ چلیں، کسی سے نہ ڈریں، لوگوں کی مدد کریں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی جج، پولیس افسر یا سی ڈی اے ملازم اپنے کام سے ڈرتا ہے، تو وہ اپنا تبادلہ کرا لے، لیکن ایمانداری سے کام ضرور کرے۔ ان کے مطابق "غلطی کی سزا نہیں ہوتی، بے ایمانی کی سزا ہوتی ہے۔"

عدالت نے نشاندہی کی کہ سی ڈی اے میں ایسی بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں کہ ایسے لوگوں کے نام پر زمین منتقل ہو چکی ہے جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے۔ اس کے علاوہ عدالت نے ایک ہی شخص کو چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر تعینات رکھنے پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔

جسٹس کیانی نے کہا کہ عدالتی حکم تھا کہ ہر سیکٹر میں ایک ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) ہونا چاہیے تاکہ بوجھ کم ہو، لیکن اس کے برعکس ایک افسر نے پورا نظام الٹ دیا اور پانچ ڈی سی تعینات کر دیے۔

آخر میں عدالت نے سی ڈی اے کو ہدایت دی کہ متاثرین کی مشکلات کے حل کے لیے ایک مربوط اور تفصیلی رپورٹ ایک ماہ کے اندر پیش کی جائے تاکہ مسئلے کا کوئی پائیدار حل نکالا جا سکے۔

مزیدخبریں