لاہور: مسلم لیگ ن کے رہنما اور مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ نے پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کے بعض اراکین نے انہیں رابطہ کر کے ووٹ دینے کی درخواست کی، تاہم انہوں نے ان سے کہا کہ وہ اپنے امیدوار کو ووٹ دیں۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا بائیکاٹ نہ صرف غیر جمہوری بلکہ غیر سیاسی رویہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کے اندھے حامی صرف انتشار اور فتنہ چاہتے ہیں، اور نہ حکومت کو بلکہ پوری قوم کو چاہیے کہ وہ اس انتشار کو روکیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ایک پالیسی کے تحت مخالفین کو گالیاں دینے کا کلچر اپنایا ہوا ہے، جو سیاسی عمل کے لیے نقصان دہ ہے۔ رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ سیاست مذاکرات سے آگے بڑھتی ہے اور ڈیڈ لاک کسی مسئلے کا حل نہیں۔
رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی کی قیادت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو جب بیرونی خطرات کا سامنا تھا تو وہ سننے کو تیار نہیں تھے، جبکہ معرکہ حق کی کامیابی سیاسی اور عسکری قیادت کے اتفاق رائے کا نتیجہ تھی۔
انہوں نے علیمہ خان کے ساتھ پیش آئے واقعے کی بھی مذمت کی اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں اور ان کے حقوق دیے جا رہے ہیں، لیکن پی ٹی آئی نے بدتمیزی کے کلچر کو بطور پالیسی اپنایا ہے۔
یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی رہنما اعجاز چودھری کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی سینیٹ کی نشست پر ضمنی انتخاب آج ہو رہا ہے، جبکہ اپوزیشن نے اس ضمنی انتخاب میں ووٹ کاسٹ نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔