اسلام آباد : وفاقی حکومت نے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے بجلی کے بلوں میں بڑا ریلیف دینے اور فصلوں و جانوروں کے نقصان کے ازالے کے لیے کسان پیکیج لانے پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت بجلی کے بلوں پر عائد جنرل سیلز ٹیکس، ایف سی سرچارج، فکس چارجز ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر جنرل سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی کے خاتمے کی تجویز بھی زیرِ بحث ہے۔
بجلی کے بلوں سے انکم ٹیکس، اضافی اور فاضل ٹیکس کے ساتھ ساتھ ریٹیلر سیلز ٹیکس ختم کرنے کا امکان بھی موجود ہے۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کے بجلی بلوں سے ٹیکسز ختم کرنے کے لیے کام جاری ہے اور متاثرین کے بلوں میں فوری ریلیف دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ لینڈ ریونیو کے ٹیکسز صوبائی حکومت معاف کرے گی جبکہ بجلی کے اضافی بلوں کا بھی نوٹس لیا جائے گا، خاص طور پر وہ بل جو سیلاب سے پہلے پرنٹ ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب حکومت نے سیلاب سے فصلوں اور جانوروں کے نقصان کے ازالے کے لیے کسان پیکیج بھی تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رانا تنویر حسین نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں کا سروے مکمل ہوتے ہی کسان پیکیج کا اعلان کیا جائے گا، جس میں فصلوں کے نقصان کا ابتدائی ڈیٹا بھی شامل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب سے فصلوں کو ایک سے تین فیصد تک نقصان پہنچا ہے، خاص طور پر چاول کی فصل کو شدید نقصان ہوا ہے۔ گوجرانوالہ ڈویژن میں فصلوں کا نقصان سب سے زیادہ یعنی 18 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
واضح رہے کہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلاب نے زراعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔گزشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی حکومت سے زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے اور سیلاب متاثرہ کسانوں کے بجلی کے بل معاف کرنے کا مطالبہ کیا تھا.