اسلام آباد : دنیا بھر کی نظریں آج پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پر مرکوز ہیں، جہاں دہائیوں پر محیط کشیدگی کے بعد امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے۔ پاکستان کی کامیاب ترین سفارت کاری کے نتیجے میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے وفود آمنے سامنے بیٹھیں گے تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔
ان مذاکرات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں جانب سے انتہائی بااثر شخصیات شرکت کر رہی ہیں۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی سٹیو وٹکوف اور سابق مشیر جیرڈ کشنر وفد کا حصہ ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف تہران کا موقف پیش کریں گے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ مذاکرات انتہائی حساس نوعیت کے ہوں گے جنہیں "بند کمرہ اجلاس" کی صورت دی گئی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھیں گے۔ مذاکرات کا پہلا مرحلہ آج شروع ہو رہا ہے جبکہ حتمی اور فیصلہ کن دور کل ہفتے کے روز متوقع ہے۔
پاکستان نے اس جنگ بندی اور مذاکرات کے انعقاد میں "ثالث" کے طور پر مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ اس کامیابی پر دنیا بھر کے رہنماؤں نے وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلی فون کر کے مبارکباد پیش کی ہے۔امیرِ قطر، شاہِ بحرین اور وزیراعظم لبنان نے پاکستانی کوششوں کو خطے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔جرمنی، اٹلی اور آسٹریا کے سربراہان نے پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کو سراہتے ہوئے اسے عالمی امن کی طرف بڑا قدم قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کے مقام کا خود دورہ کیا اور سکیورٹی سمیت تمام انتظامات کو حتمی شکل دی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے امریکی ناظم الامور سے ملاقات میں یقین دہانی کرائی کہ امریکی وفد پاکستان کا "خصوصی مہمان" ہوگا اور سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔
مبصرین کے مطابق، اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر اثر انداز ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی قد کاٹھ میں بھی بے پناہ اضافہ کریں گے۔
عالمی سفارت کاری کا مرکز اسلام آباد: پاک سرزمین پر پاک،امریکہ،ایران تاریخی مذاکرات کا آج سے آغاز
09:02 AM, 10 Apr, 2026