نئی دہلی : راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سابق ترجمان یشونت شندے نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے آر ایس ایس اور بی جے پی کو بھارت میں مبینہ دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث قرار دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندو انتہا پسند تنظیمیں نہ صرف مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کرتی ہیں، بلکہ ان حملوں کو ریاستی سطح پر تحفظ بھی حاصل ہوتا ہے۔
یشونت شندے نے دعویٰ کیا ہے کہ 2006 میں مہاراشٹرا کے شہر ناندیڑ میں ہونے والا بم دھماکہ دراصل آر ایس ایس کے زیرانتظام بم سازی کی ایک ناکام کوشش تھی، جس میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں محض حادثات نہیں بلکہ ایک منظم دہشت گرد نیٹ ورک کا حصہ تھیں جس کا مقصد اقلیتوں کو دہشت گردی کے جھوٹے الزامات میں پھنسانا تھا۔
شندے کے مطابق آر ایس ایس کا نیٹ ورک اورنگ آباد کی ایک مسجد کو نشانہ بنانے کے لیے بم تیار کر رہا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس کے سینیئر رکن اندریش کمار نے انہیں خود دہشت گرد منصوبوں میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ راکیش دھاوڑے اور روی دیو (عرف متھن چکرورتی) جیسے آر ایس ایس کارکنان بم سازی کی تربیت دے رہے تھے، اور راکیش روزانہ نئے افراد کو اس مقصد کے لیے تربیتی کیمپ میں لاتا تھا۔
یشونت شندے نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے تمام تفصیلات اور ملزمان کے نام منظرعام پر لانے کے باوجود بھارتی عدلیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ خاموشی دراصل حکومتی سرپرستی کی عکاسی کرتی ہے جو ہندوتوا نظریے کے تحت دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہے۔
یشونت شندے نے واضح الفاظ میں الزام لگایا کہ مودی حکومت اور آر ایس ایس ہندوتوا نظریے کے تحت ریاستی دہشت گردی کی سرپرستی کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق مسلمانوں پر جھوٹے الزامات لگا کر اصل دہشت گردوں کو تحفظ دیا جاتا ہے، اور انتہا پسند نیٹ ورک کو حکومتی سطح پر پشت پناہی حاصل ہے۔
ان انکشافات نے بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی اور ریاستی دہشت گردی کے الزامات کو نئی بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، اقوامِ متحدہ، اور بین الاقوامی میڈیا کے لیے یہ ایک سنگین معاملہ ہے، جس پر آزاد اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں۔