اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں ہونے والا سہ فریقی دفاعی معاہدہ کسی کے خلاف جارحیت کے لیے نہیں بلکہ خطے میں امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے موجود دفاعی تعاون اور پاکستان و ترکیہ کے دیرینہ تعلقات کا تسلسل ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے وفاقی وزرا اور سرکاری حکام کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ برس بھی دفاعی معاہدہ ہوا تھا جبکہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کئی دہائیوں سے دفاعی اور باہمی تعاون کے مضبوط روابط قائم ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا سہ فریقی دفاعی معاہدہ پہلے سے موجود تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کے تحفظ کی ذمہ داری پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کے لیے ایک اہم فریضہ ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کے لیے تقویت کا باعث بنے گا۔ انہوں نے معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کاوشوں کو بھی سراہا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ وطن عزیز سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے قومی عزم برقرار ہے۔ انہوں نے ہنگو، سوات اور دیگر علاقوں میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران شہید ہونے والے پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک ریاستی ادارے اور قوم متحد ہو کر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
آزاد کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ وہاں انارکی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیا ہے، اگر کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہوئی تو ترقی کا دور دوبارہ شروع ہوگا۔
وزیراعظم نے سیاسی رہنما اقبال چنڑ کے انتقال پر بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور مرحوم کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔