ناول نگاری اور ڈرامہ نگاری کی دنیا کا بڑا نام، فاطمہ ثریا بجیا، ہمیں چھوڑے 10 برس بیت گئے

01:41 PM, 10 Feb, 2026

لاہور : ناول نگاری اور ڈرامہ نگاری کی دنیا کا بڑا نام، فاطمہ ثریا بجیا، ہمیں چھوڑے 10 برس بیت گئے ہیں۔ ان کی تحریریں اور تخلیقات نہ صرف ٹیلی ویژن بلکہ ریڈیو اور سٹیج پر بھی اپنا رنگ جمانے میں کامیاب ہوئیں۔ فاطمہ ثریا بجیا کا کام سماجی اور فلاحی حوالے سے بھی بے شمار لوگوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوا۔ ان کا خاندان بھی ادبی دنیا میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے، جس میں مختلف اہم شخصیات شامل ہیں۔

یکم ستمبر 1930ء کو حیدرآباد دکن میں پیدا ہونے والی فاطمہ ثریا بجیا نے اپنے فن کی بدولت ڈرامہ نگاری میں ایک نیا معیار قائم کیا۔ ان کے لکھے ہوئے گھریلو ڈرامے، جیسے شمع، افشاں، عروسہ اور انا، ہر دور میں لوگوں کی پسندیدہ تحریریں رہیں۔ ان کے ڈراموں نے بڑے خاندانوں اور ان کے مسائل کی بہترین عکاسی کی۔ ان کے مقبول ترین ڈراموں میں انارکلی، زینت، آگہی، بابر اور سسی پنوں شامل ہیں۔

فاطمہ ثریا بجیا کی ٹیلی ویژن کی دنیا میں آمد ایک اتفاق تھی، جب 1966ء میں کراچی جانے والی ان کی فلائٹ میں تعطل آیا۔ اس دوران وہ اسلام آباد پی ٹی وی سینٹر کسی کام سے گئیں، جہاں آغا ناصر نے انہیں اداکاری کے ذریعے پہلا کام دیا۔ اس کے بعد انہوں نے ڈرامہ نگاری کے ذریعے پی ٹی وی سے اپنا تعلق مضبوط کیا اور کئی کامیاب ڈرامے تخلیق کیے۔

ان کے فن کی قدردانی کرتے ہوئے حکومت پاکستان نے 1997ء میں انہیں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔ اسی طرح انہیں کئی قومی اور بین الاقوامی اعزازات بھی ملے، جن میں جاپان کا اعلیٰ سول ایوارڈ اور 2012ء میں صدر پاکستان کی طرف سے ہلال امتیاز شامل ہیں۔ فاطمہ ثریا بجیا نے سندھ حکومت میں مشیر برائے تعلیم کے طور پر بھی اپنی خدمات دیں۔

ان کا خاندان ادبی دنیا میں اپنی جداگانہ حیثیت رکھتا ہے، جہاں ان کے بھائیوں احمد مقصود اور انور مقصود کے علاوہ بہنوں میں سارہ نقوی، زہرہ نگاہ اور زبیدہ طارق بھی معروف شخصیات ہیں۔

فاطمہ ثریا بجیا نے 10 فروری 2016ء کو 86 برس کی عمر میں گلے کے کینسر کے باعث وفات پائی، مگر ان کی تحریریں اور انسانیت کا احترام سکھانے والی کہانیاں آج بھی زندہ ہیں۔ وہ ایک ایسا نام ہیں جو اپنی تخلیقات اور انسانیت کی خدمت کی بدولت ہمیشہ یاد رہیں گے۔

مزیدخبریں