بنگلہ دیش میں 'Gen Z' کا انقلاب: "دلی نہیں ڈھاکہ" کے نعروں سے گونجتی انتخابی مہم ختم، 12 فروری کو نئی نسل قسمت کا فیصلہ کرے گی

03:43 PM, 10 Feb, 2026

ڈھاکہ : بنگلہ دیش میں پندرہ سالہ طویل انتظار کے بعد پہلے حقیقی اور مسابقتی عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ ان انتخابات کی سب سے منفرد بات "جنریشن زی" (Gen Z) یعنی نوجوان ووٹرز کا وہ بھرپور جوش و خروش ہے جس نے دہائیوں پرانی سیاست کے توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ڈھاکہ یونیورسٹی سے لے کر چٹاگانگ کی گلیوں تک، اس بار انتخابی مہم میں روایتی نعروں کے بجائے نوجوانوں کی آواز حاوی رہی۔ نئی نسل کے ووٹرز میں شدید بھارت مخالف جذبات دیکھے گئے ہیں۔ سڑکوں پر "دلی نہیں بلکہ ڈھاکہ" کے نعرے اور دیواروں پر لکھی تحریریں واضح پیغام دے رہی ہیں کہ بنگلہ دیشی نوجوان اپنے ملک کے فیصلے کسی بیرونی مداخلت کے بغیر کرنا چاہتے ہیں۔
 نوجوانوں کا موقف ہے کہ ماضی میں سیاسی بنیادوں پر ان کے ساتھ جو امتیازی سلوک کیا گیا، اب وہ اسے بیلٹ پیپر کے ذریعے ختم کریں گے۔12 فروری کو ہونے والی پولنگ کے لیے ملک کو ایک قلعے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
 کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے ملک بھر میں فوج تعینات کر دی گئی ہے۔ مجموعی طور پر 9 لاکھ 70 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار فرائض انجام دیں گے۔حکومت نے تین روز تک موٹر سائیکل چلانے پر پابندی عائد کر دی ہے تاکہ شرپسند عناصر کی نقل و حرکت محدود رہے۔
اس بار مقابلہ دو بڑے سیاسی بلاکس کے درمیان ہے، جبکہ عوامی لیگ الیکشن سے باہر ہے۔     بی این پی اتحاد، نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اسے تبدیلی کی علامت سمجھ رہی ہے (سروے: 44.1 فیصد حمایت)۔    جماعتِ اسلامی اتحاد، 11 جماعتوں پر مشتمل یہ اتحاد اپنی منظم مہم اور "کلین امیج" کی وجہ سے نوجوانوں میں مقبول ہو رہا ہے (سروے: 43.9 فیصد حمایت)۔
اس بار انتخابات کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ ووٹرز نہ صرف اپنے نمائندے منتخب کریں گے بلکہ "جولائی نیشنل چارٹر" (آئینی اصلاحات) پر ایک ریفرنڈم میں بھی حصہ لیں گے۔ یہ ریفرنڈم اس احتجاجی تحریک کا ثمر ہے جس کی قیادت اسی نوجوان نسل نے کی تھی۔

مزیدخبریں