ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر حکومتی گرفت مضبوط: بھارت میں متنازع آئی ٹی ترامیم کا اعلان، 3 گھنٹے کی ڈیڈ لائن مقرر

06:51 PM, 10 Feb, 2026

نئی دہلی : بھارت نے ملک کے آئی ٹی قوانین (IT Rules 2021) میں انتہائی اہم اور سخت ترمیم کر دی ہے، جس کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو اب کسی بھی غیر قانونی مواد کی نشاندہی ہونے پر اسے ہٹانے کے لیے صرف 3 گھنٹے کا وقت دیا جائے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، اس سے قبل کمپنیوں کے پاس مواد ہٹانے کے لیے 36 گھنٹے کی مہلت ہوتی تھی، جسے اب غیر معمولی طور پر کم کر دیا گیا ہے۔ یہ نیا قانون میٹا (فیس بک، انسٹاگرام)، ایکس اور یوٹیوب جیسے عالمی پلیٹ فارمز پر براہِ راست اثر انداز ہوگا۔نئے قواعد و ضوابط کا اطلاق 20 فروری سے ہوگا۔
حکومت قومی سلامتی اور امنِ عامہ کے نام پر کسی بھی مواد کو غیر قانونی قرار دے کر اسے ہٹانے کا حکم دے سکے گی۔     ترامیم میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کے حوالے سے قواعد میں کچھ نرمی بھی برتی گئی ہے۔
بھارتی حکومت کے اس فیصلے کو ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے "آن لائن سنسرشپ" کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف 180 منٹ کے اندر مواد کا جائزہ لینا اور اسے ڈیلیٹ کرنا ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک ناممکن چیلنج ثابت ہو سکتا ہے، جس سے صارفین کی آزادیِ اظہارِ رائے متاثر ہونے کا شدید خدشہ ہے۔
حالیہ برسوں میں مودی حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا کمپنیوں کو ہزاروں کی تعداد میں مواد ہٹانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، اور یہ نئی ترمیم اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔

مزیدخبریں