افغان طالبان کا بیانیہ 'خاک' میں مل گیا، اقوامِ متحدہ نے افغانستان کو دہشت گردی کا گڑھ قرار دے دیا

07:24 PM, 10 Feb, 2026

نیویارک/اسلام آباد: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی مانیٹرنگ ٹیم نے افغانستان کی صورتحال پر ایک چشم کشا رپورٹ جاری کی ہے، جس نے کابل انتظامیہ کے ان تمام دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پورے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کا یہ دعویٰ کہ "افغانستان میں کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں"، اقوامِ متحدہ کے کسی بھی رکن ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے۔ اس کے برعکس، شواہد بتاتے ہیں کہ افغانستان میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کو پہلے سے کہیں زیادہ آزادی اور سہولت کاری میسر آئی ہے۔
سکیورٹی کونسل کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ  القاعدہ نے کالعدم ٹی ٹی پی کو باقاعدہ تربیت اور تزویراتی مشاورت فراہم کی ہے۔ القاعدہ برصغیر کی قیادت کے کابل میں موجود ہونے کی مصدقہ اطلاعات ہیں، جو بیرونی حملوں کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔ داعش خراسان شمالی افغانستان اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں بدستور فعال ہے اور بڑی کارروائیوں کی صلاحیت رکھتی ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کے سکیورٹی تحفظات کی توثیق کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ افغانستان سے پاکستان پر ہونے والے حملوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ 
افغانستان میں چھوڑے گئے جدید امریکی و نیٹو ہتھیاروں کے ذخائر اب دہشت گردوں کے ہاتھ میں ہیں، جس سے حملوں کی مہلکیت بڑھ گئی ہے۔ کالعدم ٹی ٹی پی اب پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں نائٹ ویژن آلات (رات میں دیکھنے والے کیمرے)، جدید ترین ہتھیار اور ڈرون نظام کا استعمال کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی یہ رپورٹ عالمی سطح پر افغانستان پر دباؤ میں اضافے کا باعث بنے گی کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کی نرسری بننے سے روکے۔ پاکستان طویل عرصے سے ان حقائق کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کراتا رہا ہے، جن کی تصدیق اب عالمی ادارے نے بھی کر دی ہے۔

مزیدخبریں