اسلام آباد : پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے سینیٹ اجلاس کے دوران حکومت کی توانائی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹ میٹرنگ اور سولرائزیشن کے خلاف حکومتی اقدامات عوامی مفاد کے منافی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بار بار ٹیرف کی تبدیلی اور غیر مستحکم پالیسیوں کے باعث ملک سے سرمایہ کار تیزی سے کوچ کر رہے ہیں۔شیری رحمان نے پارلیمنٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں روف ٹاپ سولرائزیشن ایک بڑا انقلاب تھا، لیکن نیپرا کے موجودہ اقدامات سمجھ سے بالاتر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ وہ پہلی سرکاری عمارت تھی جہاں سولر سسٹم لگایا گیا، مگر اب عام شہریوں اور مڈل کلاس کو اس سہولت سے محروم کیا جا رہا ہے جو کلائمیٹ چینج سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ سینیٹر نے کہا کہ بوسیدہ ڈسٹری بیوشن سسٹم اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کی وجہ سے انویسٹرز ملک چھوڑ رہے ہیں، جس پر حکومت کو فوری توجہ دینی چاہیے۔
شیری رحمان نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے بلوں کو مختلف قسم کے ٹیکسز جمع کرنے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے، جس نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ سستی اور ماحول دوست توانائی کے بجائے روایتی اور مہنگے نظام کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ عوام کے بلوں میں اضافہ کیا جا سکے۔
ملک بھر میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ تاحال تھم نہ سکا، جس سے گھریلو اور صنعتی صارفین دونوں پریشان ہیں۔پیپلز پارٹی کی رہنما نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مینوفیکچرنگ کمپنیوں اور گھریلو صارفین کو سستی بجلی فراہم کی جائے تاکہ نئی جاب مارکیٹ پیدا ہو سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ سرمایہ کاروں کے تحفظ اور نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے واضح اور مستحکم پالیسی وضع کی جائے تاکہ عوام کو مہنگائی کے اس دور میں کچھ ریلیف مل سکے۔
سولر صارفین پر شب خون مارنا بند کیا جائے، بجلی کے بل ٹیکس وصولی کا آلہ بن چکے: شیری رحمان
07:54 PM, 10 Feb, 2026