گرین انرجی کا دفاع یا صارفین کا استحصال؟ سینیٹ میں نیٹ میٹرنگ کی قرارداد پر حکومت اور اپوزیشن آمنےسامنے

08:18 PM, 10 Feb, 2026

اسلام آباد : سینیٹ کے حالیہ اجلاس میں سولر پالیسی اور نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ اپوزیشن نے حکومت کی جانب سے سولر صارفین کے خلاف ممکنہ اقدامات کو 'عوام دشمن' قرار دیتے ہوئے کڑی تنقید کی، جبکہ حکومت نے توانائی کے شعبے میں طویل مدتی اصلاحات کا دفاع کیا۔
سینیٹر ڈاکٹر زرقاء سہروردی نے ایوان میں ایک قرارداد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ چھتوں پر نصب شمسی نظام (سولر) استعمال کرنے والے صارفین کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے اور نیپرا کے قواعد کو قومی پالیسی کے مطابق لایا جائے۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اس قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ     حکومت 2030 تک بجلی کی مجموعی پیداوار کا 60 فیصد گرین انرجی پر منتقل کرنے کے ہدف پر کام کر رہی ہے۔
    ماضی کی غلط معاشی پالیسیوں اور ڈالر کی قدر میں اضافے کی وجہ سے بجلی کے نرخ بڑھے، تاہم اب حکومت بتدریج اصلاحات (Transition) کے ذریعے بوجھ کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سینیٹر علی ظفر نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ عوام کو ترغیب دے کر سولر پر منتقل کیا گیا اور اب جب لوگوں نے لاکھوں روپے خرچ کر دیے ہیں تو نیٹ میٹرنگ پالیسی بدل کر انہیں سزا دی جا رہی ہے۔ سینیٹر شیری رحمان نے بجلی کے بلوں میں بڑھتے ہوئے ٹیکسوں اور آئی پی پیز (IPPs) کے ساتھ معاہدوں کو ملکی معیشت کے لیے 'اژدھا' قرار دیا۔ جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ اور دیگر اراکین نے بھی معیشت کی بگڑتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
گرما گرم بحث کے باوجود ایوان نے قانون سازی کا ایجنڈا مکمل کرتے ہوئے درج ذیل اہم بلوں کی منظوری دی۔ 
    انسدادِ جرائم برقی (ترمیمی) بل 2024 منظور کر لیا گیا۔    انسانی اسمگلنگ: انسدادِ خفیہ خرید و فروختِ اشخاص ترمیمی بل 2024 کی منظوری دی گئی۔ مجموعہ تعزیراتِ پاکستان ترمیمی بل 2024 منظور ہوا۔  اسلام آباد میں کتابوں پر پلاسٹک کور چڑھانے پر پابندی کا بل 2025 بھی منظور کر لیا گیا۔عائلی عدالتیں ترمیمی بل کو مزید مشاورت کے لیے موخر کر دیا گیا۔

مزیدخبریں