ٹرمپ کی برازیل کو تجارتی دھمکی، عدالتی کارروائی کو ’سیاسی انتقام‘ قرار دے دیا

03:18 PM, 10 Jul, 2025

واشنگٹن / برازیلیا :  سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برازیل کی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایک کھلے خط میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف کارروائیاں بند نہ ہوئیں اور سابق صدر جائر بولسونارو کو نشانہ بنایا جاتا رہا تو برازیل کی مصنوعات پر 50 فیصد درآمدی ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں برازیلی عدالتوں کے فیصلوں کو "سیاسی انتقام" قرار دیا اور کہا کہ موجودہ برازیلی حکومت امریکی کمپنیوں، خاص طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، کے خلاف امتیازی سلوک کر رہی ہے۔ ان کمپنیوں میں ان کی اپنی کمپنی "ٹرمپ میڈیا" بھی شامل ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ امریکی تجارتی نمائندے کو ہدایت دیں گے کہ وہ برازیل کے ڈیجیٹل تجارتی رویے کے خلاف "سیکشن 301" کے تحت تحقیقات شروع کریں، جو وہی قانونی طریقہ ہے جس کے تحت ماضی میں چین اور دیگر ممالک پر درآمدی پابندیاں عائد کی گئیں۔

برازیل کا سخت ردعمل
برازیل کے صدر لولا ڈا سلوا نے ٹرمپ کے بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر برازیلی مصنوعات پر ٹیرف بڑھایا گیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ برازیل کا عدالتی نظام خود مختار ہے اور اس میں کسی قسم کی بیرونی مداخلت ناقابل قبول ہے۔

صدر سلوا نے مزید کہا، "ہم اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، اور اگر کوئی تجارتی جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا سامنا پوری طاقت سے کریں گے۔"

برکس اور لائبیریا کا ذکر
ٹرمپ نے برکس اجلاس کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے امریکہ مخالف اتحاد قرار دیا اور دھمکی دی کہ برکس میں شامل ممالک کی مصنوعات پر اضافی 10 فیصد ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب ایک دلچسپ واقعہ اس وقت پیش آیا جب لائبیریا کے صدر، افریقی سربراہان کے ایک وفد کے ہمراہ وائٹ ہاؤس پہنچے۔ دوران گفتگو جب لائبیریا کے صدر نے روانی سے انگریزی میں بات کی تو ٹرمپ حیران رہ گئے اور مسکرا کر پوچھا، "آپ نے اتنی اچھی انگریزی کہاں سے سیکھی؟"

لائبیریا کے صدر نے ہنستے ہوئے جواب دیا، "میں نے انگریزی لائبیریا سے سیکھی ہے۔" جس پر ٹرمپ نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا، "یہاں میز پر بیٹھے کچھ لوگ بھی اتنی اچھی انگریزی نہیں بول سکتے۔"

یاد رہے کہ لائبیریا مغربی افریقہ کا وہ ملک ہے جہاں انگریزی سرکاری زبان ہے، اور وہاں کی اکثریتی آبادی روانی سے انگریزی بولتی ہے۔

مزیدخبریں