پنجاب اسمبلی: معطل ارکان کے خلاف نااہلی ریفرنسز پر کارروائی شروع، اپوزیشن نے ایوان سے باہر علامتی اسمبلی قائم کر لی

03:18 PM, 10 Jul, 2025

لاہور:پنجاب اسمبلی میں معطل ارکان کے خلاف آئینی ریفرنسز پر کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ اپوزیشن نے احتجاجاً اسمبلی کے باہر اپنی علامتی "حقیقی اسمبلی" لگا لی، جس سے صوبائی سیاست میں نئی کشیدگی نے جنم لے لیا ہے۔

ترجمان پنجاب اسمبلی کے مطابق، اسپیکر کو 26 معطل ارکان کے خلاف آرٹیکل 63-A کے تحت ریفرنسز موصول ہو چکے ہیں۔ اسپیکر نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام ارکان کو 11 جولائی صبح 11 بجے ذاتی سماعت کا موقع دیا جائے گا، تاکہ قانونی تقاضے مکمل کیے جا سکیں۔ ترجمان کے مطابق، ان ریفرنسز پر 30 روز کے اندر فیصلہ کرنا آئینی ضرورت ہے اور ہر رکن کو اپنے دفاع کا مکمل موقع دیا جائے گا۔
اپوزیشن کا احتجاج، "حقیقی اسمبلی" کا قیام

دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں نے معطل ارکان کی "غیر قانونی بے دخلی" کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے باہر ہی اپنی علامتی اسمبلی قائم کر لی۔ اس "حقیقی اسمبلی" میں اعجاز شفیع کو علامتی اسپیکر منتخب کیا گیا جبکہ متعدد ارکان نے شرکت کی۔

اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بچھر نے کہا:

    "ہمیں اسمبلی سے غیر آئینی طور پر نکالا گیا، لہٰذا ہم نے جمہوریت کا تسلسل قائم رکھنے کے لیے اپنی اسمبلی لگائی ہے۔"

انہوں نے حکومت کو "فارم 47 کی پیداوار" قرار دیتے ہوئے بجٹ کو فراڈ قرار دیا اور کہا کہ لاہور بارش کے بعد تباہ حال ہے، لیکن حکومت عوامی مسائل کے بجائے سیاسی انتقام میں مصروف ہے۔

احتجاج کے دوران پنجاب اسمبلی کے اطراف پولیس کی بھاری نفری، خاردار تاریں اور بیریئرز لگائے گئے تاکہ صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔
شاہ خرچیوں کے خلاف متفقہ قرارداد منظور

اپوزیشن کی قائم کردہ علامتی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی شاہ خرچیوں اور تشہیری مہم کے خلاف ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی۔
قرارداد رکن اسمبلی ملک فہد نے پیش کی، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ موجودہ حکومت نے پاکستان کی تاریخ کی سب سے مہنگی سرکاری تشہیری مہم چلائی، جو عوام کے ٹیکس کا غلط استعمال ہے۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ:

    سرکاری اخراجات پر چلنے والی ذاتی تشہیر پر مکمل پابندی عائد کی جائے؛

    غیر ضروری و شاہانہ اخراجات فی الفور بند کیے جائیں؛

    حکومت کو عوامی مفاد کو ترجیح دینی ہوگی۔

اپوزیشن نے زور دیا کہ شدید مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی دباؤ کے اس دور میں حکومت کی پرتعیش مہمیں عوام کے ساتھ ظلم کے مترادف ہیں۔

مزیدخبریں