فیس بک اور انسٹاگرام میں فوری اصلاحات کا مطالبہ، یورپی یونین کی میٹا کو سخت وارننگ

08:50 PM, 10 Jul, 2026

کیلیفورنیا:  یورپی یونین نے ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک اور انسٹاگرام پر صارفین کو زیادہ دیر تک آن لائن رکھنے کے لیے بعض فیچرز استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کمپنی سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

یورپی کمیشن کی ابتدائی تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ انسٹاگرام اور فیس بک کے کچھ فیچرز، جن میں خودکار ویڈیوز چلنے کا نظام، مسلسل اسکرولنگ اور صارفین کی دلچسپی کے مطابق مواد کی تجاویز شامل ہیں، لوگوں کو طویل وقت تک پلیٹ فارم پر مصروف رکھنے کا باعث بنتے ہیں۔

کمیشن کے مطابق ایسے ڈیزائن سے خاص طور پر نوجوان صارفین کے زیادہ استعمال اور عادت بننے کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ یورپی ریگولیٹرز کا مؤقف ہے کہ میٹا ان ممکنہ خطرات کی نشاندہی اور ان کے تدارک کے لیے مناسب اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔

یورپی حکام نے میٹا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان فیچرز کو ازخود فعال رکھنے کے بجائے صارفین کو زیادہ اختیار فراہم کرے، بہتر وقفوں کا نظام متعارف کرائے اور اپنے الگورتھمز کو صرف صارفین کی مصروفیت بڑھانے کے بجائے متوازن انداز میں استعمال کرے۔

دوسری جانب میٹا نے یورپی یونین کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی نوجوانوں کے تحفظ کے لیے پہلے ہی کئی اقدامات کر چکی ہے۔ کمپنی کے مطابق ٹین اکاؤنٹس جیسے فیچرز کے ذریعے اسکرین ٹائم محدود کرنے اور رات کے اوقات میں رسائی کو کنٹرول کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

یورپی یونین کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر میٹا نے مطلوبہ اصلاحات نہ کیں تو کمپنی کو اس کی سالانہ عالمی آمدن کے 6 فیصد تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت پر اثرات کے حوالے سے بحث میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ کئی ممالک آن لائن پلیٹ فارمز کے لیے مزید سخت قوانین بنانے پر غور کر رہے ہیں۔
 
 
 

مزیدخبریں